روسی جنرل پر قاتلانہ حملے کی برطانوی کوشش ناکام، ایف ایس بی چیف

FSB Director Aleksandr Bortnikov FSB Director Aleksandr Bortnikov

روسی جنرل پر قاتلانہ حملے کی برطانوی کوشش ناکام، ایف ایس بی چیف

ماسکو (صداۓ روس)
روس کی وفاقی سیکیورٹی سروس کے سربراہ Aleksandr Bortnikov نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی لیفٹیننٹ جنرل Vladimir Alekseyev پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کا سراغ ملا ہے۔ ان کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی یوکرینی انٹیلی جنس نے کی، تاہم اسے “تیسرے ممالک” کی حمایت حاصل تھی۔ روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بورتنیکوف نے کہا کہ تحقیقات کے دوران “سب سے پہلے برطانیہ کا نشان” سامنے آیا ہے، اسی لیے تفتیش جاری ہے۔ انہوں نے تفصیلات فراہم کیے بغیر اس عزم کا اظہار کیا کہ روس اس حملے کو “بے جواب نہیں چھوڑے گا”، جبکہ ممکنہ جوابی اقدامات پر کھلے عام گفتگو کو حساس معاملہ قرار دیا۔

حکام کے مطابق جنرل الیکسیئیف، جو روس کے مرکزی انٹیلی جنس ادارے جی آر یو کے فرسٹ ڈپٹی چیف ہیں، کو رواں ماہ کے آغاز میں مغربی ماسکو میں واقع ان کی رہائش گاہ کی عمارت میں لفٹ کے قریب پیٹھ پر متعدد گولیاں ماری گئیں۔ وہ حملے میں بچ گئے۔ واقعے کے سلسلے میں تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں مبینہ شوٹر بھی شامل ہے۔ روسی سیکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ مبینہ حملہ آور لیوبومیر کوربا، جو یوکرینی نژاد روسی شہری بتایا جاتا ہے، کو متحدہ عرب امارات کے تعاون سے روس کے حوالے کیا گیا۔ ایف ایس بی کے مطابق کوربا نے کیف کے لیے کام کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اسے جنرل کو قتل کرنے کے عوض 30 ہزار ڈالر کی پیشکش کی گئی تھی۔ ایف ایس بی نے مزید دعویٰ کیا کہ پولینڈ کی خصوصی سروسز نے کوربا کی بھرتی میں کردار ادا کیا اور اس مقصد کے لیے اس کے بیٹے کو استعمال کیا گیا، جو پولش شہری ہے۔ ان الزامات پر برطانیہ، یوکرین اور پولینڈ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

Advertisement