یوکرین ہمارا دشمن ہے، ہنگری
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان نے یوکرین کو کھلے الفاظ میں ’’دشمن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کییف کی جانب سے ہنگری پر روسی تیل اور گیس کی خریداری بند کرنے کے مطالبات ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مغربی ہنگری کے شہر سومباتھیلی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وکٹر اوربان نے الزام عائد کیا کہ یوکرین برسلز میں مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ ہنگری کو سستی روسی توانائی سے محروم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مطالبات ناقابلِ قبول ہیں اور ان کے نتیجے میں ہنگری کے عوام کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وکٹر اوربان نے کہا کہ جب تک یوکرین ہنگری کو سستی روسی توانائی سے منقطع کرنے کا مطالبہ کرتا رہے گا، یوکرین صرف ہمارا مخالف نہیں بلکہ ہمارا دشمن ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روسی توانائی کی فراہمی بند کی گئی تو گھریلو صارفین کے یوٹیلیٹی بلز میں ڈرامائی اضافہ ہوگا۔ ہنگری کے وزیرِاعظم نے یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی بھی سخت مخالفت کی اور کہا کہ کییف کے ساتھ کسی بھی قسم کا فوجی یا معاشی اتحاد مسائل کو جنم دے گا۔ ان کے مطابق ایسا اتحاد پورے خطے کے لیے عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
اس سے قبل ہنگری نے اعلان کیا تھا کہ وہ روسی توانائی پر پابندیوں کو ’’خودکشی‘‘ کے مترادف قرار دیتے ہوئے یورپی یونین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گا۔ یورپی کمیشن اس وقت پابندیوں کے بیسویں پیکج پر غور کر رہا ہے، جس میں روسی تیل سے متعلق بحری خدمات پر پابندی بھی شامل ہے، جبکہ یورپی کونسل دو ہزار ستائیس کے اختتام تک روسی گیس کی مکمل فراہمی ختم کرنے کے منصوبے کی منظوری دے چکی ہے۔ ہنگری دیگر یورپی ممالک کے برعکس یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے سے انکار کرتا آیا ہے اور روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستے پر زور دیتا رہا ہے۔ وکٹر اوربان اس خدشے کا بھی اظہار کر چکے ہیں کہ کشیدگی میں مزید اضافہ نیٹو اور روس کے درمیان براہِ راست جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔