خبریں ہوں یا تجزیے — عالمی منظرنامہ، صرف "صدائے روس" پر۔

LN

یوکرین امن مذاکرات خفیہ رہنے چاہئیں، عوامی بحث نقصان دہ ہو سکتی ہے، کریملن

Kremlin

یوکرین امن مذاکرات خفیہ رہنے چاہئیں، عوامی بحث نقصان دہ ہو سکتی ہے، کریملن

ماسکو(صداۓ روس)
روس نے واضح کیا ہے کہ یوکرین سے متعلق امن مذاکرات کی تفصیلات کو عوامی سطح پر زیرِ بحث لانا عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے منگل کو کہا کہ مذاکرات کے نکات کو خفیہ رکھنا ہی پیش رفت کی ضمانت ہے۔ پیسکوف نے زور دیا کہ صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان الاسکا سربراہی اجلاس نے ’’سفارتی پیش رفت‘‘ کو ممکن بنایا ہے۔ تاہم ان کے مطابق، عوامی طور پر مذاکرات کی باریکیوں پر گفتگو ’’ہمارے مشترکہ مقصد کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی. اس سے قبل روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو بتایا تھا کہ ماسکو یوکرین کے معاملے میں ’’لچک دکھانے کے لیے تیار ہے‘‘۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ ٹرمپ کی ’’متحرک سفارت کاری‘‘ نے روس کو ’’اہم رعایتیں‘‘ دینے پر آمادہ کیا ہے۔

لاوروف سے جب پوچھا گیا کہ کیا صدر پوتن یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے براہِ راست ملاقات کریں گے، تو انہوں نے کہا کہ پوتن نے ایسی ملاقات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا، لیکن یہ ملاقات ’’معنی خیز‘‘ ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، ’’ہم صرف اس لیے نہیں مل سکتے کہ زیلنسکی تصویر کھنچوا کر اپنی نام نہاد قانونی حیثیت ثابت کریں۔‘‘
روس کا موقف ہے کہ زیلنسکی کی صدارتی مدت گزشتہ سال ختم ہو چکی ہے، اس لیے ان کے دستخط کردہ کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی قانونی حیثیت مشکوک ہے۔پیسکوف نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان کسی بھی اعلیٰ سطحی رابطے کو ’’اچھی تیاری‘‘ کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ نتیجہ خیز ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ روس اب بھی یوکرین تنازع کو پرامن اور سیاسی سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا خواہاں ہے۔

شئیر کریں: ۔