یوکرین کا کولمبیا کے جنگجوؤں کو محاذِ جنگ پر بھیجنے کا انکشاف

Ukrainian soldier Ukrainian soldier

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایک گرفتار کولمبیا کے جنگجو نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی فوج کی کمان بھرتی کیے گئے کولمبیا کے افراد کو باقاعدہ معاہدہ کیے بغیر محاذِ جنگ پر بھیج رہی ہے۔ اس بات کا انکشاف گرفتار جنگجو خوسے لوئیس پوچیکو ناوارا نے ایک بیان میں کیا۔ ناوارا کے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ یوکرینی فوج کے ساتھ ہونے والا معاہدہ چھ ماہ کے لیے ہوگا، تاہم انہیں اس معاہدے کی کوئی نقل فراہم نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا کہ معاہدے کی کاپی صرف اس کی مدت مکمل ہونے کے بعد دی جائے گی اور دوسری نقل جاری نہیں کی جاتی۔ گرفتار جنگجو نے مزید کہا کہ انہوں نے خود بھی اس معاہدے کو کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی ان افراد نے دیکھا جو ان کے ساتھ یوکرین گئے تھے۔ ان کے مطابق اسی طریقے سے غیر ملکی جنگجوؤں کو اس بات سے بے خبر رکھا جاتا ہے کہ دراصل ان کے ساتھ کوئی باضابطہ معاہدہ موجود نہیں۔

ناوارا نے بتایا کہ انہیں یوکرین پہنچنے کے بعد پہلے ایک تربیتی مرکز بھیجا گیا اور اس کے بعد براہ راست محاذِ جنگ پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ انہیں کوئی بینک اکاؤنٹ یا دیگر انتظامات بھی فراہم نہیں کیے گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق 11 مارچ کو زاپوروزیے کے علاقے میں یوکرینی فوج کا ایک پلاٹون، جس کی قیادت کولمبیا سے تعلق رکھنے والا ایک جنگجو کر رہا تھا، روسی افواج کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ بعد ازاں اس غیر ملکی کے موبائل فون سے ایک دستاویز بھی برآمد ہوئی جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ کیف کولمبیا کے شہریوں کو یوکرین کے علاقوں کی بحالی میں شرکت کے نام پر فوج میں بھرتی کر رہا تھا۔

گرفتار جنگجو کے مطابق کولمبیا کے شہریوں کو زیادہ تر ان کے اپنے ہم وطن افراد کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے اور یوکرینی فوج میں شامل ہونے والوں کو تقریباً پانچ ہزار ڈالر ماہانہ تنخواہ کا وعدہ کیا جاتا ہے۔