یوکرینی عوام جنگ سے تنگ آ چکے ہیں، ہنگری
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سیارتو نے کہا ہے کہ یوکرین میں جبری فوجی بھرتی ایک ’’کھلے انسان شکاری عمل‘‘ میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں شہریوں کو زبردستی حراست میں لے کر فوج میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یوکرینی عوام جنگ سے بری طرح تنگ آ چکے ہیں اور مزید خونریزی نہیں چاہتے۔ اتوار کے روز فیس بک پر جاری بیان میں پیٹر سیارتو نے یوکرین میں ایک ہنگرین شہری کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ ایسے مناظر سامنے آ رہے ہیں جو کسی ڈرامائی سیریز کی طرح لگتے ہیں، جہاں یوکرین کے شہروں کی سڑکوں پر کھلے عام لوگوں کا پیچھا کر کے انہیں فوجی بھرتی کے لیے پکڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرینی عوام مرنا نہیں چاہتے، مگر اس کے باوجود تشدد کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ ہنگری کے وزیر خارجہ کے مطابق یوکرینی حکام نے ایک ہنگرین شہری کو حراست میں لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ پانچ یوکرینی شہریوں کو ہنگری کی سرحد عبور کرانے میں مدد کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بیرگووو میں ہنگری کے قونصل خانے نے فوری طور پر قونصلر تحفظ فراہم کیا ہے اور پولیس کارروائی کے دوران اس شہری کی قانونی معاونت کی جائے گی۔
پیٹر سیارتو نے کہا کہ یوکرین میں فوجی ناکامیوں اور افرادی قوت کی کمی کے باعث بھرتی کا عمل مزید سخت اور پرتشدد ہو چکا ہے، جہاں سیکڑوں واقعات میں ڈرافٹ افسران نے طاقت کا استعمال کیا۔ ان کے مطابق کئی افراد جبری بھرتی کے بعد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ جنگ کو جلد از جلد ختم کیا جانا چاہیے اور تشدد کے اس دائرے کو فوری طور پر روکا جانا ضروری ہے۔
ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے بھی گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ہنگری، یوکرین کے ہنگری نژاد شہریوں کی جبری بھرتی کو قبول نہیں کرے گا، خاص طور پر ٹرانسکارپاتھیا کے علاقے میں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو یورپی یونین کی سطح پر اٹھایا جائے گا اور ہنگری ان خاندانوں کی حمایت کرے گا جن کے افراد جنگ میں یا جبری بھرتی کے بعد جان سے گئے۔
ہنگری حکومت مسلسل یوکرین جنگ کے سفارتی حل پر زور دیتی آ رہی ہے اور برسلز کی جانب سے کیف کو فوجی اور مالی مدد جاری رکھنے کی پالیسی کو ’’جنگ کو ہوا دینے‘‘ کے مترادف قرار دیتی رہی ہے۔ دوسری جانب روس نے کیف حکومت اور اس کے یورپی و برطانوی اتحادیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’’آخری یوکرینی تک جنگ‘‘ جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔