اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل یوکرینی کو نئے سال کی شب حملے پر گہری تشویش

UN António Guterres UN António Guterres

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل یوکرینی کو نئے سال کی شب حملے پر گہری تشویش

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے یوکرین کی جانب سے نئے سال کی شب روس کے زیرِ انتظام خیرسون ریجن میں شہریوں پر مبینہ ڈرون حملے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی کو بتائی۔ روسی حکام کے مطابق یہ حملہ 31 دسمبر کو رات بارہ بجنے سے کچھ دیر قبل بحیرہ اسود کے ساحلی گاؤں خورلی میں پیش آیا، جہاں نئے سال کی تقریبات جاری تھیں۔ حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق متعدد ڈرونز نے ایک بھری ہوئی کیفے اور ہوٹل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ روسی تفتیشی کمیٹی کا کہنا ہے کہ کم از کم ایک ڈرون میں آتش گیر مواد موجود تھا، جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔ اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ سیکریٹری جنرل شہری ہلاکتوں میں اضافے اور اہم شہری انفراسٹرکچر کی تباہی پر بدستور گہری تشویش رکھتے ہیں۔ شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہیں۔ یہ حملے جہاں بھی ہوں، ناقابلِ قبول ہیں اور انہیں فوری طور پر رکنا چاہیے۔”

دوجارک نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ اس واقعے کی مخصوص تفصیلات پر تبصرہ نہیں کر سکتا کیونکہ عالمی ادارے کے نمائندوں کو جائے وقوعہ تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔ ادھر اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ بچوں سمیت شہریوں کی ہلاکتیں بین الاقوامی انسانی قانون کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔ روسی حکام کے مطابق حملے کے وقت کیفے اور ہوٹل میں 100 سے زائد افراد موجود تھے، جن میں مہمان اور عملہ شامل تھا۔ جائے وقوعہ سے کئی ڈرونز کے ٹکڑے بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ یوکرینی حکام نے تاہم جمعرات کے روز اس حملے کی ذمہ داری سے انکار کیا تھا۔ روسی تفتیشی کمیٹی نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اسی حوالے سے جنیوا میں روس کے مستقل مندوب گینادی گاتیلوف نے کہا کہ یہ حملہ محاذ پر یوکرین کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہو سکتا ہے، جبکہ انہوں نے اس سانحے پر مغربی ممالک کی خاموشی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

Advertisement