سردیوں میں بھی لاہور میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، شہریوں کی زندگی مفلوج

electric pole electric pole

سردیوں میں بھی لاہور میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، شہریوں کی زندگی مفلوج

لاہور (صداۓ روس)
لاہور میں سردیوں کے موسم کے باوجود غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس سے شہریوں کی گھریلو اور کاروباری زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ شہری کئی کئی گھنٹے بجلی سے محروم رہتے ہیں اور نہ تو کوئی واضح اطلاع دی جاتی ہے اور نہ ہی بجلی آنے جانے کا کوئی طے شدہ وقت بتایا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سردیوں میں بھی بجلی کی غیر متوقع بندش ناقابلِ برداشت ہو گئی ہے۔ طلبہ اور دفاتر جانے والے افراد شکایت کر رہے ہیں کہ آن لائن کلاسز اور آفیشل کام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ گھریلو خواتین کے مطابق کھانے پکانے اور دیگر روزمرہ امور میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ گلبرگ کے رہائشی محمد سلیم نے بتایا کہ “سردیوں میں بھی بجلی کا یوں جانا ناقابلِ برداشت ہے، بچے پڑھائی نہیں کر پاتے۔” مزنگ بازار کے دکاندار اکرم بٹ کا کہنا ہے کہ “کاروبار بری طرح متاثر ہے، گاہک روشنی نہ ہونے کی وجہ سے واپس چلے جاتے ہیں۔”
شادمان کی رہائشی فرزانہ بی بی نے بتایا کہ “کھانے پکانے اور روزمرہ امور میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں، بجلی کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔” لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ بجلی کی بندش زیادہ تر مینٹیننس اور گرڈ بیلنسنگ کے لیے کی جاتی ہے۔ ترجمان کے مطابق کمپنی کی ویب سائٹ پر باضابطہ لوڈشیڈنگ شیڈول موجود ہے جس میں فیڈر وار تفصیلات دی جاتی ہیں تاکہ عوام پیشگی تیاری کر سکیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ غیر اعلانیہ بندش صرف ہنگامی صورتحال یا تکنیکی خرابی کی صورت میں کی جاتی ہے اور ادارہ کوشش کرتا ہے کہ عوام کو کم سے کم پریشانی ہو۔ تاہم عوامی سطح پر شکایات کا مرکز یہی ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور شیڈول پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ لیسکو کا مؤقف ہے کہ وہ شفافیت اور پیشگی اطلاع دینے کی کوشش کرتے ہیں مگر ہنگامی حالات میں بجلی بند کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ اس تضاد نے شہریوں میں بے چینی اور ادارے پر اعتماد کی کمی پیدا کر دی ہے۔