امریکا کا کینیڈا پر انتخابات میں مداخلت کی کوشش کا الزام

US elections US elections

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا نے کینیڈین حکام پر امریکی انتخابات میں مداخلت کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے، جس کی بنیاد سیاسی طور پر ہدف بنائے گئے تجارتی اقدامات، ٹرمپ مخالف اشتہاری مہمات اور ڈیموکریٹ سیاستدانوں سے ملاقاتوں کو بنایا گیا ہے۔ یہ الزامات آئندہ ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے سامنے آئے ہیں۔

بدھ کو شائع ہونے والی فیکٹ شیٹ میں اوٹاوا میں امریکی سفارتخانے نے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت پر امریکی سیاست پر اثرانداز ہونے کی کھلی کوشش کا الزام لگایا۔ سفارتخانے کے مطابق کینیڈین حکومت امریکی انتخابات میں ممکنہ مداخلت کے خدشات کو نظر انداز کرتی ہے، حالانکہ اس کے وزرا اور صوبائی وزرائے اعلیٰ سرکاری دستاویزات اور عوامی پیشیوں میں امریکی سیاست پر اثرانداز ہونے کے منصوبوں کو کھل کر بیان کرتے ہیں۔

دستاویز میں کینیڈا کی وزیر صنعت میلانی جولی کا خاص طور پر ذکر کیا گیا، جنہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کے جواب میں ریپبلکن رجحان رکھنے والی ریاستوں کو جوابی محصولات کا دانستہ ہدف بنانے کی بات کی تھی۔ جولی نے مارچ میں کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ اہم ریپبلکن ریاستوں میں امریکی کاروباروں پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں۔ اگست میں انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے دانشمندانہ اور حکمت عملی پر مبنی انداز اپنا رہے ہیں۔

واشنگٹن نے ستمبر میں بوسٹن اور شکاگو میں جولی کی ڈیموکریٹ حکام سے ملاقاتوں پر بھی سوال اٹھایا، جبکہ اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ کی جانب سے شروع کی گئی ٹیرف مخالف اشتہاری مہم کا بھی حوالہ دیا جس میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کو تحفظ پسند تجارتی پالیسیوں پر تنقید کرتے دکھایا گیا ہے۔

سفارتخانے نے کینیڈا کی قونصل جنرل برنیڈیٹ جارڈن کی حالیہ شرکت کو بھی نمایاں کیا، جو وسط مدتی انتخابات سے محض تین ہفتے قبل ورمونٹ میں تجارتی کشیدگی پر ایک گول میز اجلاس میں دو ڈیموکریٹ ارکان کانگریس کے ساتھ شریک ہوئیں۔ اس نے کینیڈین حکومت کی اس بل بورڈ مہم کا بھی ذکر کیا جو 12 زیادہ تر ریپبلکن حامی ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی کو نشانہ بناتی ہے۔

سفارتخانے نے لبرل رکن پارلیمان انتھونی ہاؤس فادر کی جانب سے فلوریڈا میں ڈیموکریٹ رکن کانگریس ڈیبی واسرمین شلٹز کے لیے انتخابی مہم چلانے کا بھی حوالہ دیا، اور ان 11 کینیڈینز کی فہرست دی جن پر 2026 میں سابقہ امریکی انتخابات میں غیر قانونی طور پر ووٹ ڈالنے کے الزام میں فرد جرم عائد ہوئی یا انہیں سزا ہوئی۔

بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ تمام کینیڈینز کو امریکی انتخابات میں کسی بھی طرح حصہ لینے یا انہیں متاثر کرنے کی کوشش سے گریز کرنا چاہیے، اور امریکا کے انتخابات کا فیصلہ امریکی کرتے ہیں۔

یہ الزامات امریکی سفیر پیٹ ہوئکسٹرا کی اس تنبیہ کے بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن 3 نومبر کے کانگریسی انتخابات سے قبل کینیڈا کی سیاسی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہوئکسٹرا کے مطابق وہ اس کی نگرانی اور جائزہ لے رہے ہیں، اور اگر اس میں سے کچھ انتخابی مداخلت کی صورت اختیار کر گیا تو امریکا جواب دے گا۔

اوٹاوا نے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ کارنی نے کہا کہ کینیڈا کے اقدامات کا مقصد اپنے کارکنوں اور کاروباروں کو امریکی محصولات سے بچانا ہے، جبکہ فورڈ نے امریکی انتخابات میں مداخلت میں کسی دلچسپی کی تردید کی۔ جولی نے امریکی سیاستدانوں سے اپنی ملاقاتوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں معمول کی سفارت کاری قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں سے ملاقات کی۔

یہ تنازع دونوں ہمسایہ ممالک کے بگڑتے تعلقات کے دوران سامنے آیا ہے، جس کی وجہ ٹرمپ کے وسیع محصولات اور بار بار یہ تجاویز ہیں کہ کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بن جانا چاہیے۔ ستمبر میں کارنی نے انکشاف کیا تھا کہ ان کی حکومت نے کینیڈا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکان کا جائزہ لیا، اور اس منظرنامے کو انتہائی کم امکان والا خطرہ قرار دیا جس کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی پھر بھی ضروری تھی۔ دوسری جانب اوٹاوا واشنگٹن پر انحصار کم کرنے کے لیے یورپ کے ساتھ قریبی فوجی اور اقتصادی تعلقات کا خواہاں ہے۔