جنوبی افریقہ کا اسرائیلی سفارت کار کو ملک بدر کرنا جارحانہ خارجہ پالیسی ہے،امریکہ
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکہ نے جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے اعلیٰ سفارتکار کو ملک بدر کرنے کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے خارجہ پالیسی کا ناقص انتخاب قرار دیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ پریٹوریا مسلسل ایسے فیصلے کر رہا ہے جو امریکہ کے قریبی اتحادیوں کے خلاف جاتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے قائم مقام سفیر ایریل سیڈمین کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے بہتر گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ جنوبی افریقہ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ سفارتی آداب کی خلاف ورزی اور اسرائیلی سفارتخانے کی جانب سے صدر سیرل رامافوسا پر سوشل میڈیا کے ذریعے کیے گئے توہین آمیز حملوں کے ردِعمل میں کیا گیا۔ اس اقدام کے جواب میں اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے فلسطین میں جنوبی افریقہ کے نمائندے شان ایڈورڈ بائنویلڈٹ کو بھی اسی مدت میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا اور پریٹوریا پر اسرائیل کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے کا الزام عائد کیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ٹومی پگوٹ نے بدھ کے روز کہا کہ ایک سفارتکار کو اس بنیاد پر ملک بدر کرنا کہ اس نے افریقی نیشنل کانگریس کے حماس اور دیگر یہود مخالف عناصر سے تعلقات کی نشاندہی کی، جنوبی افریقہ کے عوام کے مفاد کے بجائے شکایتی سیاست کو ترجیح دینے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق یہ جنوبی افریقہ کی خارجہ پالیسی کے ناقص فیصلوں کی ایک اور مثال ہے۔ جنوبی افریقہ اور اسرائیل کے تعلقات اس وقت مزید خراب ہو گئے جب پریٹوریا نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسرائیل کے خلاف غزہ میں نسل کشی کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کیا۔ اسرائیل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی افریقہ اور امریکہ کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے جنوبی افریقہ پر بین الاقوامی امور میں واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگی نہ رکھنے اور سفید فام شہریوں کے خلاف مبینہ نسل کشی کو نظرانداز کرنے کے الزامات لگائے ہیں، جنہیں جنوبی افریقہ نے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ گزشتہ برس مارچ میں امریکہ نے جنوبی افریقہ کے سفیر ابراہیم رسول کو اس وقت ملک بدر کر دیا تھا جب انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی تھی۔ اس کے علاوہ امریکہ نے جنوبی افریقہ کی امداد میں بھی کمی کی ہے، جس کی وجہ متنازع اراضی ضبطگی قانون اور ایران، روس اور چین کے ساتھ مبینہ قریبی تعلقات بتائے گئے ہیں۔