ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ایک فضائی حملہ غلطی سے عراق میں جا گرا۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق یہ واقعہ تکنیکی خرابی اور پرانے ہدفی اعداد و شمار کے استعمال کے باعث پیش آیا۔ فوجی ذرائع کے مطابق حملے کے دوران پائلٹس نے ایسے ٹارگٹنگ کوآرڈینیٹس پر انحصار کیا جو کئی برسوں سے اپ ڈیٹ نہیں کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں بمباری کا ہدف تبدیل ہو گیا اور میزائل یا بم ایران کے بجائے عراق میں جا گرے۔ حکام نے اس واقعے کو ایک “تکنیکی گڑبڑ” قرار دیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق اس واقعے کے بعد فوری طور پر تحقیقات اور جائزے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ آئندہ فوجی کارروائیوں کے دوران اس طرح کی غلطیوں سے بچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور ذمہ دار عوامل کی نشاندہی کی جائے گی۔
امریکی محکمہ دفاع نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں نئے حفاظتی طریقہ کار متعارف کرائے جائیں گے، جن کے تحت حملے سے قبل ہدف کی درستگی کی فوری جانچ کی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ بم یا میزائل درست ملک اور درست مقام کو نشانہ بنائیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد فوجی کارروائیوں پر عوامی اعتماد کو بحال رکھنا اور اس طرح کی غلطیوں کو دوبارہ ہونے سے روکنا ہے۔