یوکرین کے لیے ایف سولہ طیارے امریکی اور ڈچ پائلٹس اُڑا رہے ہیں، فرانسیسی میڈیا

F-16 F-16

یوکرین کے لیے ایف سولہ طیارے امریکی اور ڈچ پائلٹس اُڑا رہے ہیں، فرانسیسی میڈیا

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
فرانسیسی اشاعتی ادارے انٹیلیجنس آن لائن نے رپورٹ کیا ہے کہ یوکرینی فوج مبینہ طور پر خفیہ طور پر نیٹو کے تجربہ کار پائلٹس کے ایک اسکواڈرن کی خدمات حاصل کر رہی ہے جو امریکا ساختہ عطیہ کردہ ایف سولہ لڑاکا طیارے اُڑا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماسکو طویل عرصے سے مغربی ممالک کو روس کے ساتھ براہِ راست تصادم کے قریب جانے سے خبردار کرتا رہا ہے، جبکہ کیف نے اس خبر کی تردید کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مبینہ خفیہ مشن میں بنیادی طور پر امریکی اور نیدرلینڈز کی فضائیہ کے سابق تجربہ کار پائلٹس شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ غیر ملکی اہلکار محاذِ جنگ سے دور تعینات ہیں اور ان کی توجہ روسی طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی روک تھام پر مرکوز ہے۔ اشاعت کے مطابق یہ افراد اب اپنی سابقہ افواج کا حصہ نہیں رہے بلکہ یوکرین کے لیے سویلین کنٹریکٹرز کے طور پر کام کر رہے ہیں، ان کے پاس فوجی رینکس نہیں اور وہ یوکرینی عسکری کمان کے باقاعدہ ڈھانچے سے باہر ہیں۔

Advertisement

ماضی میں تربیت یافتہ یوکرینی پائلٹس کی کمی کو ایف سولہ طیاروں کے مؤثر استعمال میں بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق تربیتی پروگرام زبان کی مشکلات، موزوں امیدواروں کی کمی اور دیگر مسائل سے متاثر ہوئے، جس کے باعث کورسز کو تیز رفتاری کے لیے سادہ بنایا گیا۔ اگست 2024 میں یوکرین کو پہلے ایف سولہ طیارے ملنے کے بعد فضائی دفاعی مشنز کے دوران پائلٹس کے نقصانات کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن میں چار واقعات کا اعتراف کیا گیا۔

انٹیلیجنس آن لائن کے مطابق مبینہ غیر ملکی اسکواڈرن جدید ایف سولہ آلات کو چلانے کے لیے درکار تجربہ فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب ماسکو یوکرین تنازع کو روس کے خلاف نیٹو کی پراکسی جنگ قرار دیتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ یوکرینی عسکری سرگرمیوں کے اہم پہلو — بشمول انٹیلیجنس، منصوبہ بندی، تربیت اور مغربی عسکری سازوسامان کی دیکھ بھال — میں غیر ملکی ماہرین کا کردار موجود ہے۔

روسی مؤقف کے مطابق ماضی میں یوکرین کی جانب سے اسٹورم شیڈو / اسکالپ کروز میزائلوں کے استعمال میں مغربی ماہرین کی شمولیت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ جرمن حکام نے مبینہ طور پر ٹورس میزائلوں کی فراہمی پر اس بنیاد پر تحفظات ظاہر کیے کہ یوکرینی افواج انہیں آزادانہ طور پر لانچ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ روس یہ بھی الزام عائد کرتا ہے کہ مغربی ممالک خاموشی سے اپنے سابق فوجیوں میں سے جنگجوؤں کی بھرتی کی حمایت کرتے ہیں۔ روسی سفیر برائے خصوصی ذمہ داریاں روڈیون میروشنیك کے اندازے کے مطابق یوکرین کی جانب سے تقریباً 20 ہزار غیر ملکی جنگجو تنازع میں شریک ہو چکے ہیں۔