امریکہ کی اسرائیل کو اربوں ڈالر کے نئے فوجی ہتھیاروں کی منظوری

Apache Apache

امریکہ کی اسرائیل کو اربوں ڈالر کے نئے فوجی ہتھیاروں کی منظوری

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکہ نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل کو چھ اعشاریہ پانچ ارب ڈالر سے زائد کے نئے ممکنہ فوجی ساز و سامان کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ واشنگٹن حکام کے مطابق اس فیصلے کا اعلان جمعے کے روز پینٹاگون اور امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے علیحدہ علیحدہ بیانات میں کیا گیا۔ پینٹاگون اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اس پیکج میں ایک اعشاریہ اٹھانوے ارب ڈالر مالیت کی ہلکی ٹیکٹیکل فوجی گاڑیاں، تین اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کی لاگت سے اے ایچ چونسٹھ ای اپاچی ہیلی کاپٹرز، جبکہ سات سو چالیس ملین ڈالر کا ایک علیحدہ معاہدہ بکتر بند نفری بردار گاڑیوں کے پاور پیکس کی فراہمی کے لیے شامل ہے۔ اس سودے میں اے ایم جنرل، بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن کو مرکزی ٹھیکیداروں میں شامل کیا گیا ہے۔ پینٹاگون کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ فروخت اسرائیل کی موجودہ اور آئندہ خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنائے گی اور اس کی سرحدوں کے دفاع کو مضبوط کرے گی، تاہم اس کے بقول یہ اقدام خطے میں بنیادی فوجی توازن کو تبدیل نہیں کرے گا۔ اس منظوری کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوجی حکام نے غزہ کی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہلاکتوں کے اعداد و شمار کو مجموعی طور پر درست تسلیم کر لیا ہے، جن کے مطابق فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً ستر ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ دو ہزار تئیس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل پر غزہ میں متعدد جنگی جرائم کے الزامات لگائے گئے، جبکہ انسانی امداد کی ترسیل روکنے کے الزامات بھی سامنے آئے۔

امریکی حکام کے مطابق اسلحے کی فروخت کی منظوری ایسے وقت دی گئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے فوجی آپشن کو خارج از امکان قرار نہیں دیا اور اسلامی جمہوریہ ایران میں مظاہرین کی حمایت کا وعدہ بھی کیا۔ ٹرمپ خود کو اسرائیل کا سب سے مضبوط حامی قرار دیتے رہے ہیں، جو ان کے پیشرو صدر جو بائیڈن کے مؤقف سے مختلف ہے۔ جو بائیڈن نے غزہ میں شہری ہلاکتوں پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور مئی دو ہزار چوبیس میں اسرائیل کو بھاری بموں کی ترسیل عارضی طور پر روک دی تھی، جبکہ یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ امریکی فراہم کردہ ہتھیار شہریوں کی ہلاکت میں استعمال ہوئے۔ ٹرمپ کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد مارچ دو ہزار پچیس میں واشنگٹن نے اسرائیل کے لیے فوجی امداد پر عائد شرائط کو ختم کر دیا، جنہیں اس نے بے بنیاد اور سیاسی قرار دیا۔ علاوہ ازیں ایک علیحدہ غیر ملکی فوجی فروخت کے فیصلے میں امریکہ نے سعودی عرب کو ممکنہ طور پر نو ارب ڈالر مالیت کے سات سو تیس پیٹریاٹ پی اے سی تھری ایم ایس ای انٹرسیپٹر میزائل اور متعلقہ ساز و سامان کی فروخت کی بھی منظوری دی ہے، جس میں لاک ہیڈ مارٹن کو مرکزی ٹھیکیدار مقرر کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کو تقویت ملے گی اور ایک بڑے غیر نیٹو اتحادی کی سلامتی بہتر بنائی جا سکے گی۔

Advertisement