امریکہ کا ایران پر حملہ قریب، چند گھنٹوں میں کارروائی کا امکان ،رائٹرز

F-18 Super Hornet F-18 Super Hornet

امریکہ کا ایران پر حملہ قریب، چند گھنٹوں میں کارروائی کا امکان ،رائٹرز

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران پر فوجی حملہ “قریب” ہے اور یہ کارروائی محض چند گھنٹوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف متعدد دھمکیاں دی ہیں، جبکہ ملک دسمبر کے اواخر سے شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ یہ احتجاج مہنگائی میں اضافے اور ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی کے بعد شروع ہوئے، جن کے نتیجے میں مبینہ طور پر سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ تہران نے اس تشدد کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیا ہے۔

بدھ کے روز رائٹرز نے ایک نامعلوم مغربی فوجی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ “تمام اشارے یہی ہیں کہ امریکی حملہ قریب ہے۔” تاہم اسی ذریعے نے یہ بھی کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کا طرزِعمل اکثر غیر یقینی ہوتا ہے اور غیر متوقع پن حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔

Advertisement

رپورٹ کے مطابق دو نامعلوم یورپی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ “امریکی فوجی مداخلت آئندہ 24 گھنٹوں میں ہو سکتی ہے۔” اسی طرح ایک نامعلوم اسرائیلی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ بظاہر صدر ٹرمپ ایران پر حملے کے حق میں فیصلہ کر چکے ہیں، تاہم ممکنہ فوجی کارروائی کی نوعیت اور دائرہ کار ابھی واضح نہیں۔ رائٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی حملوں کے خدشے کے پیش نظر امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض فوجی اڈوں سے عملے کو نکال رہا ہے۔

منگل کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین سے ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کی اپیل کی، اس سے قبل وہ یہ اعلان بھی کر چکے تھے کہ “مدد راستے میں ہے۔” اسی ہفتے امریکی صدر نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے خلاف “انتہائی سخت آپشنز” پر غور کر رہی ہے۔

پیر کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے ایران میں موجود تمام امریکی شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ اسی دن ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ فوجی تصادم نہیں چاہتا، تاہم وہ “جنگ کے لیے تیار” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے، بشرطیکہ وہ “منصفانہ، باوقار اور برابری کی بنیاد پر” ہوں۔