جنگ میں شامل امریکی طیارہ بردار بحری جہاز بندرگاہ جانے پر مجبور

US aircraft carrier US aircraft carrier

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایران کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں میں تعینات امریکا کے جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ میں آگ لگنے کے بعد اسے عارضی طور پر بندرگاہ پر لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پیش رفت ایران کے ساتھ جنگ کے اٹھارویں دن سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہازوں میں شمار ہونے والا یہ بحری جہاز اس وقت بحیرۂ احمر میں موجود ہے اور اسے عارضی طور پر یونان کے جزیرے کریٹ میں واقع سودا بے کی بندرگاہ لے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ جہاز وہاں کتنے عرصے تک قیام کرے گا۔ رپورٹس کے مطابق جہاز پر آگ اس کے مرکزی لانڈری ایریا میں بھڑکی جس پر قابو پانے میں کئی گھنٹے لگے۔ اس واقعے کے نتیجے میں تقریباً 200 ملاح دھوئیں سے متاثر ہوئے جنہیں طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ ایک اہلکار کو زخمی ہونے پر جہاز سے فضائی راستے سے منتقل کیا گیا۔ آگ کے باعث جہاز میں موجود تقریباً 100 سونے کی جگہیں بھی متاثر ہوئیں۔

امریکی فوج کے مطابق آگ کے باوجود جہاز کے انجن یا پروپلشن نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور طیارہ بردار بحری جہاز تکنیکی طور پر آپریشنل رہا۔ تاہم اس واقعے کے بعد جہاز کو عارضی مرمت اور عملے کی سہولت کے لیے بندرگاہ لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ جنگی جہاز گزشتہ تقریباً نو ماہ سے مسلسل تعینات ہے اور مشرق وسطیٰ پہنچنے سے قبل کیریبین میں وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائیوں میں بھی حصہ لے چکا ہے۔ طویل تعیناتی کے باعث جہاز پر موجود ملاحوں کے حوصلے اور جہاز کی آپریشنل تیاری سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے امریکا اب تک 7000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔ جیرالڈ آر فورڈ پر پانچ ہزار سے زائد ملاح اور 75 سے زیادہ فوجی طیارے موجود ہیں جن میں ایف۔18 سپر ہارنیٹ لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں۔ اس بحری بیڑے کے ساتھ دیگر جنگی جہاز بھی تعینات ہیں جن میں ٹیکونڈیروگا کلاس گائیڈڈ میزائل کروزر نارمنڈی اور آرلی برک کلاس گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز تھامس ہڈنر، ریمیج، کارنی اور روزویلٹ شامل ہیں جو فضائی دفاع، سمندری حملوں اور آبدوزوں کے خلاف کارروائیوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔