ایران میں مبینہ ہلاکتوں پر امریکا کا اعلیٰ ایرانی حکام کے خلاف محدود حملوں پر غور
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں کے ذمہ دار سمجھے جانے والے ایرانی حکام اور فوجی کمانڈرز کے خلاف محدود اور ہدفی حملوں پر غور کر رہا ہے۔ یہ بات مڈل ایسٹ آئی کی ایک رپورٹ میں ایک خلیجی عہدیدار کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران میں رواں ماہ ہونے والے پرتشدد فسادات کے دوران کم از کم تین ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں سیکیورٹی اہلکار اور مظاہرین دونوں شامل تھے۔ ایرانی حکام نے ان بدامنیوں کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا ہے جبکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حالات معمول پر آنے کے بعد دعویٰ کیا کہ ایرانی قوم نے امریکا کو شکست دی ہے۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران میں نام نہاد ’’ہائی ویلیو‘‘ حکام کے خلاف ممکنہ حملے اسی ہفتے کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر ہونے والی مشاورت انتشار کا شکار ہے اور اس بحث کا محور یہ ہے کہ ایران کسی حملے کی صورت میں کس نوعیت کا جواب دے سکتا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران سے متعلق صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق پینٹاگون نے خطے میں بڑی بحری قوت تعینات کر دی ہے۔ امریکا کی سینٹرل کمانڈ نے بھی تصدیق کی ہے کہ یو ایس ایس ابراہام لنکن طیارہ بردار بحری بیڑا جنوبی بحیرہ چین سے مشرق وسطیٰ پہنچ چکا ہے۔ قبل ازیں خبر رساں ادارے رائٹرز نے جنوری کے وسط میں رپورٹ کیا تھا کہ ایران پر حملہ قریب ہے، تاہم بعد میں امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اس کارروائی کو روک دیا تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس فیصلے پر خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے مؤقف کا بھی اثر تھا۔ ایران نے امریکا کو کسی بھی غلط اندازے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی حملے کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔ رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا تھا کہ تہران نے اپنے ہمسایہ ممالک کو بھی آگاہ کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔