ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
عراقی دارالحکومت بغداد میں واقع امریکی سفارتخانے پر ہفتہ کی علی الصبح حملہ کیا گیا ہے۔ عرب ٹی وی چینل “الحدث” کے مطابق حملے کے بعد عراقی سکیورٹی اداروں نے اس واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملے کا ہدف بغداد میں امریکی سفارتی مشن کے احاطے میں قائم فضائی دفاعی نظام کا اسٹیشن تھا، تاہم اس حوالے سے تفصیلات ابھی تک غیر مصدقہ بتائی جا رہی ہیں۔ واقعے کے بعد عراقی سکیورٹی فورسز نے بغداد کے مرکزی علاقے میں واقع “گرین زون” کو گھیرے میں لے لیا ہے، جہاں عراقی حکومت کے اہم دفاتر اور متعدد ممالک کے سفارتخانے موجود ہیں جن میں امریکی سفارتخانہ بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی جس کے دوران تہران سمیت ایران کے کئی بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے ان حملوں کو ایران کی جانب سے مبینہ میزائل اور جوہری خطرات کا جواز پیش کرتے ہوئے درست قرار دیا تھا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ بحرین، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملے کیے گئے۔
مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اہم ایرانی رہنماؤں کے مارے جانے کی اطلاع بھی دی گئی تھی۔ بعد ازاں اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس خبرگان نے مقتول رہنما کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا اعلان کیا۔