ریاض میں امریکی سفارتخانے پر دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی

Attack Attack

ریاض میں امریکی سفارتخانے پر دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
سعودی دارالحکومت Riyadh میں واقع United States Embassy in Riyadh میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق منگل کے روز سفارتی مشن کے احاطے میں آگ لگ گئی، تاہم فوری طور پر دھماکے کی نوعیت، ممکنہ وجوہات یا جانی نقصان سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ قبل ازیں Agence France-Presse (اے ایف پی) نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی سفارتخانے کے قریب دو زور دار دھماکے سنے گئے۔ سعودی وزارتِ دفاع نے بیان میں کہا ہے کہ امریکی سفارتخانے کو دو ایرانی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ وزارت کے مطابق حملے کے نتیجے میں عمارت کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ آگ محدود نوعیت کی تھی اور صورتحال کو فوری طور پر قابو میں لے لیا گیا۔

ادھر امریکی میڈیا سے وابستہ صحافی Jennifer Griffin نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایرانی ڈرون حملے کے وقت سفارتخانہ خالی تھا اور کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ان کے مطابق ایک سرکاری اہلکار نے Fox News کو بتایا کہ واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ایران کی مسلح افواج کے ذیلی ادارے Islamic Revolutionary Guard Corps (آئی آر جی سی) نے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا، جبکہ مختلف رپورٹس کے مطابق خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ کشیدگی کے باعث متعدد علاقائی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے پروازیں معطل کر دی ہیں، جس سے خطے میں سفری اور تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔