امریکہ اور یورپی یونین بالٹک ریاستوں کا دفاع نہیں کریں گے، روسی سینیٹر
ماسکو (صداۓ روس)
روسی فیڈریشن کونسل کی دفاعی اور سلامتی کمیٹی کے رکن الیگزینڈر یاروشوک نے لیتھوانیا کے ریئر ایڈمرل گیڈریس پریمنیکاس کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین لیتھوانیا، لیٹویا اور ایسٹونیا کے ساتھ روس کے کسی بھی تصادم کی صورت میں ان کا دفاع نہیں کریں گے۔
تاس کو دیے گئے بیان میں یاروشوک نے کہا کہ “روسوفوبیا کی تجارت کے بدلے مغربی آقاؤں سے انعامات لینے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب انہیں اس کے پیسے نہیں مل رہے، ان کی افادیت ختم ہو گئی ہے۔” انہوں نے ریئر ایڈمرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “وہ شاید یہ جانتے ہی ہوں گے، لیکن میں ایک بار پھر واضح کر دیتا ہوں کہ یورپی یونین اور امریکہ اگر کچھ ہوا تو لیتھوانیا، لیٹویا یا ایسٹونیا کے لیے نہیں لڑیں گے۔ پولینڈ کے لیے بھی انگلی نہیں ہلائیں گے۔ یہ سب خالی پوسچر ہے۔ ہم اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ جب دھول بیٹھ جائے گی تو یہ سب سے پہلے دوستی کا دعویٰ کرتے ہوئے واپس آئیں گے اور کہیں گے کہ یہ عارضی غلطی تھی۔”
اس سے قبل لیتھوانیا کے مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف ریئر ایڈمرل گیڈریس پریمنیکاس نے دعویٰ کیا تھا کہ “نیٹو کے ساتھ تصادم کی صورت میں روس کیلینن گراڈ اور اس کے گردونواح سے محروم ہو جائے گا” اور یہ علاقہ “مغربی کنٹرول” میں آ سکتا ہے۔
کالینن گراڈ ریجنل لیجسلیٹو اسمبلی کے رکن اور بین الاقوامی و بین الاضلاعی تعلقات، سلامتی اور قانون و ترتیب کمیٹی کے نائب چیئرمین یوگینی مشن نے کہا کہ بالٹک اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے روس کے خلاف اشتعال انگیز بیانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر بالٹک سمندر میں مبینہ طور پر مسلسل سمندری زون کو وسعت دینے کی کوششیں روسی تجارتی بحری جہازوں پر کنٹرول قائم کرنے کی کوشش ہیں۔
دوسری جانب ایئربس کے سی ای او رین اوبرمین نے یورپ میں ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے اور کیلینن گراڈ ریجن میں دفاعی سسٹمز کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماسکو نے بارہا واضح کیا ہے کہ کیلینن گراڈ روسی فیڈریشن کا لازمی حصہ ہے اور اس کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔