ایرانی میزائل کی زد میں آ کر امریکی ایف-35 جنگی طیارہ ہنگامی لینڈنگ پر مجبور

F-35 F-35

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی فوج کا جدید ترین جنگی طیارہ ایف-35 ایران کے فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کے نتیجے میں نشانہ بننے کے بعد ہنگامی لینڈنگ کرنے پر مجبور ہوگیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف حملوں کے آغاز کے بعد خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کے مطابق ایف-35 جنگی طیارہ ایران کے اوپر ایک جنگی مشن پر پرواز کر رہا تھا کہ اسی دوران اسے مشتبہ طور پر ایرانی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے بتایا کہ طیارہ محفوظ طریقے سے لینڈ کر گیا اور پائلٹ کی حالت مستحکم ہے، تاہم اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے پاسداران انقلاب کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام نے ایک ایف-35 جنگی طیارے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد ایران نے تقریباً 10 کروڑ ڈالر مالیت کے اس جدید امریکی طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 16 امریکی فوجی طیارے تباہ ہو چکے ہیں۔ ان میں 10 ریپر حملہ آور ڈرون شامل ہیں جو دشمن کی فائرنگ سے مار گرائے گئے، جبکہ دیگر کئی طیارے حملوں یا حادثات میں شدید متاثر ہوئے۔ امریکی فضائیہ کو سب سے زیادہ نقصان حادثات کے باعث اٹھانا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق کویت میں دوست افواج کی فائرنگ سے تین ایف-15 طیارے تباہ ہوئے، جبکہ ایک کے سی-135 ایندھن بردار طیارہ فضاء میں ایندھن کی فراہمی کے دوران حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوگیا۔ اس حادثے میں طیارے میں موجود تمام چھ اہلکار ہلاک ہوگئے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ایک ہوائی اڈے پر کھڑے پانچ کے سی-135 طیارے بھی ایرانی میزائل حملے میں نقصان کا شکار ہوئے۔ تاہم اب تک ایرانی دفاعی نظام نے بنیادی طور پر بغیر پائلٹ کے ریپر ڈرونز کو ہی مار گرایا ہے، جن میں سے کم از کم نو فضا میں تباہ کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق ایک ریپر ڈرون اردن کے ایک فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے میں نشانہ بنا، جبکہ دو دیگر ڈرون حادثات کے باعث تباہ ہوئے۔ ان ڈرونز کو نسبتاً زیادہ خطرناک علاقوں میں استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ ان میں پائلٹ موجود نہیں ہوتا اور ان کی قیمت روایتی جنگی طیاروں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

اگرچہ امریکہ اور اسرائیل نے اپنی فضائی مہم کے آغاز میں ایران کے فضائی دفاعی نظام کو بنیادی ہدف بنایا تھا، تاہم اب تک اسے مکمل طور پر غیر فعال کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین کے مطابق امریکہ کو صرف محدود علاقوں میں فضائی برتری حاصل ہے، یعنی ایران کی فضائی حدود کے چند حصوں پر ہی کنٹرول قائم کیا جا سکا ہے۔

ماہرین کے مطابق ریپر ڈرونز کی تباہی خلیج فارس کی اہم آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ممکنہ کوششوں میں درپیش مشکلات کو بھی ظاہر کرتی ہے، کیونکہ فعال فضائی دفاعی نظام ایسی کارروائیوں کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران یمن میں حوثی جنگجوؤں نے بھی کئی ریپر ڈرون مار گرائے تھے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز کے مطابق امریکہ کے پاس اس وقت تقریباً 225 ریپر ڈرون موجود ہیں۔