امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی تیاریاں عروج پر

US navy US navy

امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی تیاریاں عروج پر

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی میڈیا پلیٹ فارم Axios نے رپورٹ کیا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے امکانات 90 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ دعویٰ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک نامعلوم مشیر کے حوالے سے سامنے آیا، تاہم سرکاری سطح پر کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ دفاعی امور پر مبنی ویب سائٹ The War Zone کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں مزید 50 جدید لڑاکا طیارے، جن میں ایف 35، ایف 22 اور ایف 16 شامل ہیں، تعینات کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں موجود امریکی افواج اور بحری اثاثے کئی ہفتوں پر محیط “بڑی کارروائی” کے لیے کافی سمجھے جا رہے ہیں، اور یہ آپریشن اسرائیلی فضائیہ کے ساتھ مشترکہ بھی ہو سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ نے خطے میں دو ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپس، تقریباً 12 جنگی جہاز، سینکڑوں لڑاکا طیارے اور متعدد میزائل دفاعی نظام اکٹھے کیے ہیں۔ مزید برآں 150 سے زائد فوجی ٹرانسپورٹ پروازوں کے ذریعے اسلحہ اور گولہ بارود کی ترسیل کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ The War Zone نے ویب سروسز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یو 2 ڈریگن لیڈی، ایف 16 فائٹنگ فالکن، ایف 22 ریپٹر اور ای 3 سینٹری جیسے طیارے بحرِ اوقیانوس عبور کر رہے ہیں یا حال ہی میں یورپ پہنچے ہیں۔

The War Zone کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرۂ کار میں امریکی جنگی جہازوں کی تعداد 12 تک جا پہنچی ہے، جبکہ 30 ہزار سے زائد امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ کے مختلف اڈوں پر تعینات ہیں۔ ویب سائٹ نے واضح کیا کہ اسے اس بات کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ کیا ہے، البتہ عسکری موجودگی میں اضافہ “طویل المدتی آپریشن” سے قبل متوقع اقدامات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ Axios نے مزید دعویٰ کیا کہ دو اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیلی حکومت ایک ایسے منظرنامے کی تیاری کر رہی ہے جس میں چند دنوں کے اندر جنگ کا امکان موجود ہو سکتا ہے۔ امریکی ذرائع کے اندازوں میں اختلاف بتایا گیا ہے؛ کچھ کے مطابق کارروائی چند ہفتوں میں جبکہ دیگر کے نزدیک اس سے بھی کم مدت میں ممکن ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ آپریشن کئی ہفتوں پر محیط مہم کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جو حجم کے اعتبار سے جون 2025 کی کارروائی سے کہیں بڑا ہوگا۔ Axios نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کانگریس اور عوامی توجہ دیگر امور پر مرکوز ہونے کے باعث اس ممکنہ پیش رفت پر محدود عوامی بحث دیکھنے میں آ رہی ہے، حالانکہ یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک دہائی کے دوران امریکہ کی سب سے اہم فوجی مداخلت ثابت ہو سکتی ہے۔

Advertisement