مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال ہوئی تو امریکہ مداخلت کرے گا، ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

Trump Trump

مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال ہوئی تو امریکہ مداخلت کرے گا، ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال کیا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران 2022 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے بدترین عوامی بے چینی کا سامنا کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے جمعے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکہ مکمل طور پر تیار ہے اور صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی یا انہیں تشدد کا نشانہ بنایا تو امریکہ ان کی مدد کے لیے آگے بڑھے گا۔ یہ بیان 29 دسمبر 2025 کو پوسٹ کیا گیا جسے لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں، اور اسے ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور کے آغاز میں ایران کے خلاف سخت مؤقف کی واپسی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران میں حالیہ احتجاج شدید معاشی بحران کے پس منظر میں شروع ہوئے۔ کئی برسوں سے جاری پابندیوں، بدانتظامی اور بیرونی عسکری سرگرمیوں کو اندرونی فلاح و بہبود پر ترجیح دینے کے باعث ایرانی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ دسمبر کے آخر تک ایرانی کرنسی ریال کی قدر گر کر تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار فی ڈالر تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں مہنگائی 50 فیصد سے تجاوز کر گئی اور بنیادی خوراک کی قیمتیں چند مہینوں میں دوگنی ہو گئیں۔

ابتدا میں احتجاج سبسڈی میں کٹوتیوں کے خلاف محدود پیمانے پر شروع ہوا، مگر جلد ہی پورے ملک میں پھیل گیا۔ 31 دسمبر تک ایران کے 31 میں سے 17 صوبوں میں مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں اصفہان، شیراز اور تبریز جیسے بڑے شہر شامل ہیں۔ مظاہرین نے ’’آمر مردہ باد‘‘ اور ’’ہمیں اسلامی جمہوریہ نہیں چاہیے‘‘ جیسے نعرے لگائے، جس سے معاشی مطالبات کے ساتھ ساتھ حکومت مخالف جذبات بھی واضح ہو گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پہلے ہی ہفتے میں 200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ احتجاج کو منظم ہونے سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ بندش کا سہارا لیا گیا۔ یکم جنوری کو تشدد میں مزید اضافہ ہوا جب صوبہ لرستان کے شہر ازنا میں پولیس اسٹیشن پر چھاپے کے دوران جھڑپیں ہوئیں، جن میں کم از کم تین مظاہرین ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔ آزاد ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر اب تک کم از کم پانچ افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں مشہد میں ایک کم عمر نوجوان بھی شامل ہے۔ صورتحال کے جواب میں ایرانی حکومت نے 21 صوبوں میں دفاتر، جامعات اور کاروباری مراکز تقریباً مکمل طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کیے، جس سے عوامی غصے میں مزید اضافہ ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ احتجاج 2022 کی خواتین حقوق تحریک کے برعکس غیرمرکزی نوعیت کا ہے، جس کے باعث اسے دبانا مشکل اور حکومت کے لیے زیادہ عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔

Advertisement