ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے دو ہفتے بعد شروع ہونے والی جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں واشنگٹن صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت امریکہ ایک بند گلی میں داخل ہو چکا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی اور فوجی اختیارات محدود ہو گئے ہیں۔ ابتدائی فضائی حملوں میں ایرانی قیادت کو نقصان پہنچا تاہم حکومت ختم نہیں ہوئی اور فوری طور پر نئی قیادت قائم کر دی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی “موزیک دفاعی حکمتِ عملی” نے فوجی نظام کو قیادت کے نقصان کے باوجود فعال رکھا۔ ایران نے جوابی کارروائی میں خلیجی ممالک، بحری جہازوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھا کر عالمی تیل کی سپلائی کو خطرے میں ڈال دیا۔ یاد رہے کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل اور ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ کئی ممالک نے اسٹریٹیجک تیل کے ذخائر جاری کیے، تاہم مہنگائی اور سپلائی بحران برقرار ہے۔ بنگلا دیش میں ایندھن کی راشننگ شروع ہو گئی جبکہ پاکستان سمیت متعدد ممالک میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی حکمت عملی تین بنیادی نکات پر مبنی ہے: حکومت کا تحفظ، جوابی حملوں کی صلاحیت برقرار رکھنا، اور جنگ کو طول دینا تاکہ مذاکرات اپنی شرائط پر کیے جا سکیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران سے “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کا مطالبہ کیا ہے، تاہم امریکی حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے فوجی برتری کے باوجود ایران کی سیاسی اور سماجی حقیقت کو درست انداز میں سمجھنے میں ناکامی دکھائی ہے۔ جنگ کے اثرات امریکی سیاست پر بھی پڑ رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تیل کی قیمتوں کے باعث آئندہ کانگریس انتخابات میں حکمران جماعت کو سیاسی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ممکنہ راستوں میں محدود جنگ بندی، زمینی فوج کی تعیناتی، یا ایران کے اندرونی گروہوں کی حمایت شامل ہو سکتی ہے، تاہم ہر آپشن مزید عدم استحکام کا خطرہ رکھتا ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا فوری حل موجود نہیں ہے اور امکان ہے کہ امریکہ “فتح” کی تعریف بدل کر محدود فوجی کامیابی کو ہی سیاسی کامیابی قرار دے۔