امریکی فوج نے اقوام متحدہ کے سمندری کنونشن کی خلاف ورزی کی، روس

Russia's Ministry of Transport Russia's Ministry of Transport

امریکی فوج نے اقوام متحدہ کے سمندری کنونشن کی خلاف ورزی کی، روس

ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارت ٹرانسپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ آئل ٹینکر ’مارینیرا‘ کو امریکی فوج نے قبضے میں لے لیا ہے۔ بدھ کو امریکی یورپی کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے جہاز، جو پہلے ’بیلہ 1‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، کو مبینہ “امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی” کی بنیاد پر اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ روسی وزارت ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ جہاز پر امریکی فوجی اہلکاروں نے “بین الاقوامی پانیوں میں کسی بھی ملک کی علاقائی پانیوں سے باہر” چڑھائی کی اور جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ وزارت نے ٹرانسپورٹ کہا 24 دسمبر 2025 کو مارینیرا کو روسی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق روسی پرچم لہرانے کی عارضی اجازت ملی تھی۔ وزارت نے مزید کہا کہ جہاز پر حملہ اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کی خلاف ورزی ہے، جو بین الاقوامی پانیوں میں نیویگیشن کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ ٹینکر کی صورتحال پر “قریب سے نظر” رکھے ہوئے ہے۔ وزارت خارجہ نے بتایا کیا کہ جہاز کے عملے میں روسی شہری بھی شامل ہیں اور امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ گرفتار ملاحوں کے ساتھ “انسانی اور وقار والا سلوک” یقینی بنائے اور انہیں “جلد از جلد وطن واپس آنے” کی اجازت دے۔
یاد رہے ٹینکر کو پہلی بار گزشتہ سال کے آخر میں امریکہ نے نشانہ بنایا تھا جب یہ مبینہ طور پر وینزویلا کی طرف جا رہا تھا۔ اس وقت امریکی کوسٹ گارڈ نے اس پر چڑھنے کی کوشش کی، مگر عملے نے کسی کو جہاز پر چڑھنے کی اجازت نہیں دی اور جہاز رخ موڑ کر اٹلانٹک کی طرف روانہ ہوگیا۔ تعاقب کے دوران جہاز نے نام تبدیل کیا اور روسی پرچم لہرا لیا۔ یہ واقعہ وینزویلا سے منسلک تیل کی ترسیل پر امریکی پابندیوں کی سختی اور حالیہ فوجی کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس نے روسی مفادات کو براہ راست متاثر کیا اور بین الاقوامی سمندری قانون پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

Advertisement