امریکہ کا 4500 فوجیوں اور میرینز پر مشتمل بحری دستہ مشرقِ وسطیٰ روانہ

US army US army

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکہ نے اپنے تقریباً 4500 بحریہ کے اہلکاروں اور میرینز پر مشتمل ایک بڑا بحری دستہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے پینٹاگون کے ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یو ایس ایس باکسر امفیبیئس ریڈی گروپ اور اس کے ساتھ منسلک گیارہویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کو خطے کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ٹاسک فورس 18 مارچ بروز بدھ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو سے روانہ ہوئی اور اس وقت بحرالکاہل کے راستے مشرقِ وسطیٰ کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس بحری دستے کو مشرقِ وسطیٰ پہنچنے میں تقریباً ایک ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

یو ایس ایس باکسر امفیبیئس ریڈی گروپ میں مرکزی جہاز یو ایس ایس باکسر امفیبیئس اسالٹ شپ کے علاوہ یو ایس ایس پورٹ لینڈ امفیبیئس ٹرانسپورٹ ڈاک جہاز اور یو ایس ایس کام اسٹاک ڈاک لینڈنگ شپ بھی شامل ہیں، جو اس بحری دستے کا حصہ ہیں۔

یو ایس ایس باکسر امفیبیئس اسالٹ شپ جدید جنگی صلاحیتوں سے لیس ہے اور اس پر ایف۔35 بی لائٹننگ ٹو اسٹیلتھ لڑاکا طیارے، ایم وی۔22 بی اوسپرے ٹلٹ روٹر طیارے، اے ایچ۔1 زیڈ وائپر حملہ آور ہیلی کاپٹر، یو ایچ۔1 وائی وینم یوٹیلٹی ہیلی کاپٹر اور ایم ایچ۔60 ایس سی ہاک ہیلی کاپٹر موجود ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جب یو ایس ایس باکسر امفیبیئس ریڈی گروپ مشرقِ وسطیٰ پہنچے گا تو کچھ عرصے تک یہ یو ایس ایس ٹرائپولی امفیبیئس ریڈی گروپ اور اکتیسویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے ساتھ مشترکہ طور پر موجود رہے گا، جس کے بعد یہ دستہ مکمل طور پر اکتیسویں میرین یونٹ کی جگہ سنبھال لے گا۔