وینزویلا میں امریکی آپریشن ‘بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے, لاوروف

Sergey Lavrov Sergey Lavrov

وینزویلا میں امریکی آپریشن ‘بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے, لاوروف

ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزیرِخارجہ سرگئی لاوروف نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اس ماہ امریکہ کی طرف سے وینزویلا پر کیے گئے حملے، جس میں صدر نیکولاس مادورو کو اغوا کیا گیا، بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے یہ بیان نامیبیا کی وزیرِخارجہ سلمٰی ایشیپالا موساوی سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں دیا۔ لاوروف نے کہا کہ ماسکو کی امریکہ کے اس آپریشن کے بارے میں تشخیص میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہی موقف برقرار ہے، جس کی بھرپور مذمت عالمی سطح پر بھی کی جا رہی ہے، خاص طور پر گلوبل ساؤتھ اور مشرقی ممالک کی اکثریت اس کارروائی کی مخالفت کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف مغربی یورپی ممالک اور واشنگٹن کے اتحادی اس کے خلاف اصولی موقف لینے سے گریز کر رہے ہیں، اگرچہ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں روسی مندوب واسیلی نیبنینزیا نے مادورو کے اغوا کو “ایک ظالمانہ جرم” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے کوئی جواز نہیں دیا جا سکتا۔ اسی کے ساتھ چینی مندوب سون لی نے بھی امریکی مداخلت کی سخت مذمت کی، اور کہا کہ یہ علاقائی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

امریکی فوج نے 3 جنوری کو وینزویلا میں ایک حملہ کیا جس کے دوران صدر نیکولاس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کیا گیا، اور بعد ازاں انہیں نیویارک لے جایا گیا جہاں انہیں منشیات اسمگلنگ کی سازش کے الزامات کا سامنا ہے۔ دونوں نے عدالت میں اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا ہے۔ مادورو کے اغوا کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ وینزویلا کو اس وقت تک “چلائیں گے” جب تک ایک منتقلی کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا، اور انہوں نے زور دیا کہ امریکہ کو وینزویلا کے تیل اور دوسرے وسائل تک مکمل رسائی چاہیے۔ روسی وزیرِخارجہ نے اپنے بیان میں امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے عالمی نظم و نسق کمزور پڑ رہا ہے اور امریکہ کی ساکھ غیر معتبر بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو جاری رکھے گا۔

Advertisement