امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کو وینزویلا پر نئے حملے کرنے سے روک دیا
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی سینیٹ نے 8 جنوری 2026 کو ایک وار پاورز قرارداد کو 52–47 کے ووٹ سے آگے بڑھا دیا ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر وینزویلا کے خلاف مزید فوجی کارروائی کرنے سے روکنا ہے۔ یہ پیش رفت امریکی فوج کی طرف سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد سامنے آئی ہے، جس پر متعدد سینیٹرز نے صدر کی پالیسی کو غیر قانونی اور کنسٹیٹیوشن کے خلاف قرار دیا ہے۔ قرارداد کے حمایت میں پانچ ریپبلکن سینیٹرز بھی شامل تھے، جبکہ تمام ڈیموکریٹس نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد کا مقصد یہ ہے کہ صدر مزید فوجی آپریشنز یا حملوں کے لیے کانگریس کی منظوری لے، جیسا کہ امریکی آئین میں وار پاورز ایکٹ میں درج ہے۔ حالانکہ یہ قرارداد ایک بار سینیٹ سے منظور ہو گئی ہے، اسے ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیوز سے بھی منظور ہونا اور صدر کی دستخط درکار ہوں گی، ورنہ وہ قانون کا حصہ نہیں بن سکتی۔ اس کے علاوہ توقع ہے کہ اگر قرارداد پارلیمنٹ سے منظور ہو بھی جائے تو صدر ٹرمپ اسے ویٹو کر سکتے ہیں۔
یہ قرارداد صدر کے فوجی اختیارات پر پارلیمنٹ کی نگرانی کا ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے، جس پر قانون سازوں نے خاص طور پر وینزویلا کے معاملے میں تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ ایسے ایک طرفہ فوجی اقدامات امریکا کو غیر ضروری تنازعات میں الجھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔