ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا کے سابق وزیرِ خارجہ Antony Blinken نے ایران سے متعلق کشیدگی کے تناظر میں Donald Trump کی انتظامیہ کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ حکمتِ عملی تجویز کی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ٹرمپ انتظامیہ کے پاس یہ راستہ موجود ہے کہ وہ ایک واضح سیاسی مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کرے کہ امریکہ نے اپنے بنیادی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی حکومت یہ کہہ سکتی ہے کہ ایران کے اہم مذہبی اور سیاسی رہنما آیت اللہ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
بلنکن نے کہا کہ اس طرح کا بیانیہ اختیار کر کے واشنگٹن یہ تاثر دے سکتا ہے کہ اس نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں اور اب مزید فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں رہی۔ ان کے بقول اس کے بعد امریکہ کو ایران کے مستقبل کا فیصلہ ایرانی عوام پر چھوڑ دینا چاہیے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ جنگ سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس معاملے میں انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف پیشگی کارروائی نہ کرتا تو ایران امریکہ پر حملہ کر سکتا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی کارروائی دراصل ایک پیشگی اقدام تھا جس کا مقصد ممکنہ خطرے کو روکنا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ کارروائی نہ کی جاتی تو ایران جلد ہی ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا، جو عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج ایران کے میزائل نظام اور لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں اور انہیں تباہ کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس کارروائی کے ذریعے گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری تشدد اور عدم استحکام کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بلنکن کی تجویز دراصل ایک سفارتی راستہ فراہم کرنے کی کوشش ہے جس کے ذریعے امریکہ اپنی کارروائی کو کامیاب قرار دے کر تنازع کو مزید بڑھنے سے روک سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ اب بھی ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔