وینزویلا میں امریکا کا اسٹریٹجک ہدف تیل کے ذخائر پر کنٹرول ہے، روسی سینیٹر
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
روسی فیڈریشن کونسل (ایوانِ بالا) کی انفارمیشن پالیسی کمیٹی کے چیئرمین اور سینیٹر الیکسی پوشکوف نے کہا ہے کہ وینزویلا میں امریکا کی اصل اسٹریٹجک حکمتِ عملی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ اس ملک کے وسیع تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر اپنے بیان میں الیکسی پوشکوف نے کہا کہ وینزویلا میں امریکا کی کارروائیوں کو سمجھنے کی کنجی نہ تو منشیات کے خلاف جنگ ہے اور نہ ہی صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنا۔ ان کے مطابق منشیات کا بیانیہ محض ایک بہانہ ہے جبکہ مادورو کی گرفتاری ایک ذریعہ، اصل مقصد اسٹریٹجک نوعیت کا ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل ذخائر رکھنے والے ملک وینزویلا کے وسائل پر کنٹرول قائم کرنا ہے۔ روسی سینیٹر نے مزید کہا کہ وینزویلا کی اپوزیشن کی سابق رکنِ پارلیمنٹ ماریا کورینا ماچادو کو نوبیل امن انعام دیا جانا دراصل امریکی کارروائی سے قبل ایک “اطلاعاتی تیاری” تھی۔ ان کے بقول یہ تمام واقعات ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔
اس سے قبل 3 جنوری کو وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل پنٹو نے کہا تھا کہ امریکا نے دارالحکومت کاراکاس میں شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جسے انہوں نے کھلی فوجی جارحیت قرار دیا۔ وینزویلا میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وینزویلا پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے امریکا کی جانب سے وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی پر شدید تشویش اور سخت مذمت کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نازک صورتحال میں سب سے اہم بات مزید کشیدگی کو روکنا اور بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنا ہے۔ روس نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا فوری طور پر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو رہا کرے۔