روسی تیل کی خریداری پر بھارت پر عائد اضافی امریکی محصولات ختم
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
واشنگٹن نے روسی تیل کی خریداری کے باعث بھارت پر عائد اضافی پچیس فیصد درآمدی محصولات ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق اب بھارتی مصنوعات پر یہ اضافی محصول لاگو نہیں ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سات فروری سے بھارت سے امریکہ درآمد ہونے والی مصنوعات پر اضافی پچیس فیصد ایڈ ویلیورم ڈیوٹی عائد نہیں کی جائے گی۔ یہ اضافی محصولات اس وقت نافذ کیے گئے تھے جب بھارت نے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھی تھی، جس پر واشنگٹن نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کو امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اضافی محصولات کے خاتمے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا اور بھارتی برآمد کنندگان کو امریکی منڈی میں بہتر مواقع حاصل ہوں گے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے اور کئی ممالک روسی توانائی وسائل کے معاملے پر مغربی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ بھارت اس سے قبل بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے توانائی سے متعلق فیصلے کرتا رہے گا۔