ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ جلد فیصلہ کرے گی کہ ایران کے ساتھ تنازع میں مزید آگے بڑھنا ہے یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکا کو ایران میں سات ماہ ہو چکے ہیں اور جو کچھ وہ اپنے کنٹرول میں لینا چاہتے تھے وہ سب ان کے قبضے میں ہے۔ ان کے مطابق اب فیصلہ کیا جائے گا کہ کیا مزید آگے بڑھ کر اس کی توثیق کر دی جائے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کو ملک کی تعمیر نو میں 25 برس لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ممکن ہو تو باقی ملک کو تباہ نہیں کرنا چاہیں گے، لیکن شاید انہیں ایسا کرنا پڑے، اور کہا کہ آپ کو جلد ہی پتا چل جائے گا۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے تین آپشنز پر غور کر رہی ہے: تہران کو واشنگٹن کے لیے سازگار معاہدہ ماننے پر مجبور کرنا، فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا، یا امن معاہدے تک پہنچنا۔ ایکسیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکی فوج ایران میں بڑی جنگی کارروائیوں کی ممکنہ بحالی کی تیاریاں مکمل کر رہی ہے، جن میں خطے میں مزید وسائل بھیجنا بھی شامل ہے۔
ساتھ ہی خطے کے ذرائع کے مطابق قطری ثالث ایک مسودہ معاہدے کے لیے امریکا اور ایران کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ لڑائی کی واپسی کو روکا جا سکے اور ممکنہ طور پر آئندہ چند روز میں براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے یہ بات اپنی قومی سلامتی ٹیم سے ملاقات کے بعد کہی، جو وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر ان کی پہلی ایسی ملاقات تھی۔ اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قطر، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، عمان اور مصر کے علاقائی ثالثوں سے متعدد ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق مسودے میں دو طرفہ اعتماد سازی کے اقدامات کا سلسلہ شامل ہے، جس کے بدلے ایران بمباری سے متاثرہ جوہری مقامات پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو باضابطہ دعوت دے گا، جبکہ دوسرے دن آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے گی اور اس کے بعد انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر جوہری مذاکرات ہوں گے۔ ٹرمپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تنازع میں 18 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔