امریکہ کو گرین لینڈ چاہیے اور وہ کسی نہ کسی طرح حاصل کر لے گا، ٹرمپ
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ چاہیے اور وہ اسے کسی نہ کسی شکل میں حاصل کر لے گا۔ تیل کی صنعت کے ایگزیکٹوز سے ملاقات کے دوران جب ٹرمپ سے گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے کی لاگت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: “میں گرین لینڈ کے لیے پیسے کی بات نہیں کر رہا۔ ابھی نہیں، شاید بعد میں کروں، مگر ابھی ہم گرین لینڈ کے معاملے میں کچھ کرنے جا رہے ہیں، چاہے وہ پسند کریں یا نہ کریں، کیونکہ اگر ہم یہ نہیں کریں گے تو روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کر لیں گے اور ہم روس یا چین کو اپنا ہمسایہ نہیں بننے دیں گے۔” ٹرمپ نے مزید کہا: “میں آسان طریقے سے معاہدہ کرنا چاہتا ہوں، مگر اگر آسان طریقہ کام نہ کرے تو ہم سخت طریقہ استعمال کریں گے۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر امریکہ کو جزیرے اور اس کے گرد پانیوں میں تقریباً تمام فوجی کارروائیاں کرنے کا موقع ہے تو پھر گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ کیوں بنانا چاہتے ہیں تو ٹرمپ نے کہا: “کیونکہ جب ہم اس کے مالک ہوں گے تو ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ لیز پر رکھی چیز کی حفاظت اسی طرح نہیں کی جاتی جیسے ملکیت کی چیز کی۔”
ٹرمپ نے بار بار کہا ہے کہ گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بننا چاہیے۔ مئی 2025 میں این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے طاقت کے استعمال کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا تھا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مارچ 2025 کے آخر میں کہا تھا کہ امریکی حکومت توقع کرتی ہے کہ گرین لینڈ آزاد ہو جائے گا اور پھر پرامن طور پر امریکہ کا حصہ بن جائے گا۔ وینس کے مطابق اس صورت میں واشنگٹن فوجی طاقت استعمال نہیں کرے گا۔
تاہم 6 جنوری کو وائٹ ہاؤس نے روئٹرز کو دیے گئے تحریری بیان میں گرین لینڈ سے متعلق منصوبوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “بلاشبہ کمانڈر ان چیف کے پاس امریکی فوج کا استعمال ہمیشہ ایک آپشن ہے۔”
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے 7 جنوری کو واضح کیا کہ ٹرمپ اپنے ماتحت افسران کے ساتھ گرین لینڈ کی خریداری کی ممکنہ صورتحال پر فعال طور پر بات چیت کر رہے ہیں۔
گرین لینڈ ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے۔ 1951 میں واشنگٹن اور کوپن ہیگن نے نیٹو اتحاد کی ذمہ داریوں کے علاوہ گرین لینڈ ڈیفنس معاہدہ پر دستخط کیے تھے جس کے تحت امریکہ نے ممکنہ جارحیت کے خلاف جزیرے کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔