امریکہ یوکرین تنازع کو گرمیوں تک ختم کرنا چاہتا ہے، زیلنسکی

Vladimir Zelensky Vladimir Zelensky

امریکہ یوکرین تنازع کو گرمیوں تک ختم کرنا چاہتا ہے، زیلنسکی

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو آئندہ موسمِ گرما کے آغاز تک ختم کرنا چاہتا ہے، تاکہ اس کے بعد وہ اپنی داخلی سیاسی ترجیحات پر توجہ مرکوز کر سکے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اس مقصد کے لیے دونوں فریقوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔ زیلنسکی کے یہ بیانات روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان اس ہفتے ابو ظہبی میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد سامنے آئے ہیں۔ جنوری میں ہونے والے پہلے دور کی طرح یہ مذاکرات بھی بند کمروں میں ہوئے، جن کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔ تاہم روس اور امریکہ نے ان بات چیت کو “مثبت” اور “تعمیری” قرار دیا ہے۔ ان تازہ مذاکرات کے نتیجے میں روس اور یوکرین کے درمیان 314 جنگی قیدیوں کا تبادلہ بھی عمل میں آیا۔

ہفتے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ امریکی قیادت تصفیے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے دونوں فریقین کو آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکی تجویز یہ ہے کہ جنگ کو اسی موسمِ گرما کے آغاز تک ختم کر دیا جائے اور امکان ہے کہ اس ٹائم فریم پر عمل درآمد کے لیے دباؤ بھی ڈالا جائے گا۔

یوکرینی صدر نے عندیہ دیا کہ امریکہ کی اس عجلت کی وجہ اس کے داخلی مسائل ہیں، جو اس کے لیے تیزی سے زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کا اشارہ ممکنہ طور پر امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کی طرف تھا۔ زیلنسکی کے مطابق امریکی فریق نے روس اور یوکرین کے درمیان ایک براہِ راست ملاقات کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے، جو میامی میں آئندہ ایک ہفتے کے اندر ہو سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی زیلنسکی نے ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ یوکرینی افواج ڈونباس کے ان علاقوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گی جو اس وقت کیف کے کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاقائی رعایتوں سے متعلق یوکرین کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ روس اور امریکہ دونوں اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ علاقائی تنازعات ہی امن عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

روس کا مؤقف ہے کہ کسی بھی حتمی تصفیے کے لیے یوکرین کو ڈونیٹسک اور لوگانسک عوامی جمہوریاؤں کے ان حصوں سے انخلا کرنا ہوگا جو تاحال اس کے زیرِ کنٹرول ہیں۔ یہ علاقے 2014 کے میدان انقلاب کے بعد کیف سے الگ ہوئے تھے اور 2022 کے آخر میں ہونے والے ریفرنڈمز میں روس میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا گیا تھا، تاہم یوکرین ان ریفرنڈمز کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے اور کسی بھی قسم کی علاقائی قربانی کو مسترد کر چکا ہے۔