امریکہ اور اسرائیل میں پھوٹ: ایران کی آئل ریفائنریوں پر حملے سے واشنگٹن ناراض
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے درمیان پہلا سنگین اختلاف سامنے آ گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایرانی تیل کی ریفائنریوں کو نشانہ بنانا بتائی جا رہی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس (Axios) کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ایران کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنائے جانے سے امریکہ سخت ناراض ہو گیا ہے۔ واشنگٹن کو توقع نہیں تھی کہ اسرائیل ایرانی ایندھن کے ذخائر پر حملے کرے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان تنصیبات کو تباہ کرنے سے عالمی تیل کی منڈی میں قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اختلاف اتنا سنگین ہے کہ اسے اعلیٰ سیاسی سطح پر حل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ دونوں اتحادیوں کے درمیان رابطے جاری ہیں تاکہ معاملہ مزید بگڑنے سے روکا جا سکے اور آئندہ حملوں کے اہداف پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔
ادھر ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر کشیدگی بڑھتی رہی تو تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایسے اقدامات سے خطے میں خوف و ہراس پھیل سکتا ہے جو عالمی معاشی استحکام کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوگا۔