امریکہ گرین لینڈ پر قبضہ کرے گا کیونکہ یورپ ‘کمزور’ ہے، امریکی وزیر خزانہ
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا کو گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنا چاہیے کیونکہ یورپی ممالک ممکنہ مستقبل کے کسی تنازع میں اس اسٹریٹجک آرکٹک جزیرے کا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کے بقول بالآخر واشنگٹن کے اتحادی بھی اس موقف کو تسلیم کر لیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کے خواہاں ہیں۔ گرین لینڈ ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے جس کی آبادی تقریباً چھپن ہزار ہے۔ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ جزیرہ روس اور چین کے خلاف امریکا کے دفاع کے لیے نہایت اہم ہے۔ تاہم اس پالیسی نے امریکا اور اس کے یورپی نیٹو اتحادیوں کے درمیان شدید اختلافات کو جنم دیا ہے، جنہوں نے گرین لینڈ کی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اتحاد کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ نے گرین لینڈ کو آنے والی ’’آرکٹک کی جنگ‘‘ میں امریکی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ امریکا اپنی قومی سلامتی کسی اور کے حوالے نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں روس یا کسی اور جانب سے گرین لینڈ پر حملہ ہوا تو امریکا خود بخود اس میں گھسیٹا جائے گا، اس لیے بہتر ہے کہ طاقت کے ذریعے امن کو یقینی بنایا جائے اور اسے امریکا کا حصہ بنا لیا جائے۔
امریکی وزیرِ خزانہ نے یورپی ممالک پر کمزوری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یورپ یوکرین میں روس کے خلاف مؤثر مزاحمت کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ امریکا دنیا کی سب سے طاقتور ریاست ہے۔ ان کے مطابق یورپی قیادت بالآخر اس حقیقت کو تسلیم کر لے گی کہ انہیں بدستور امریکی سکیورٹی چھتری کی ضرورت ہے۔ بیسنٹ نے یوکرین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اپنی حمایت واپس لے لے تو وہاں کی صورتِ حال مکمل طور پر بکھر جائے گی۔ انہوں نے گرین لینڈ اور نیٹو کے درمیان انتخاب کو ’’غلط بحث‘‘ قرار دیا۔ ادھر صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے میں مخالفت کرنے والے آٹھ یورپی ممالک پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے، جس کے جواب میں یورپی یونین نے ڈنمارک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے جوابی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ اسی دوران جرمنی نے کشیدگی کے پیشِ نظر گرین لینڈ سے اپنی محدود فوجی موجودگی واپس بلا لی ہے۔
روس، جو آرکٹک میں وسیع موجودگی رکھتا ہے مگر جغرافیائی طور پر گرین لینڈ سے ہزاروں کلومیٹر دور ہے، اس صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے واضح کر چکا ہے کہ وہ گرین لینڈ کو ڈنمارک کا علاقہ تسلیم کرتا ہے۔