ایران کے خلاف طاقت کا استعمال امریکا کی ’سنگین غلطی‘ ہوگی، روسی قانون ساز

Leonid Slutsky Leonid Slutsky

ایران کے خلاف طاقت کا استعمال امریکا کی ’سنگین غلطی‘ ہوگی، روسی قانون ساز

ماسکو (صداۓ روس)
روسی پارلیمان کے ایوانِ زیریں اسٹیٹ ڈوما کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین لیونید سلٹسکی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا تو یہ واشنگٹن کی ایک ’سنگین غلطی‘ ہوگی، جس کے پورے خطے پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بدھ کے روز اپنے ٹیلی گرام چینل پر بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تہران کے خلاف جارحانہ راستہ اختیار کرنا امریکہ کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر سکتا ہے۔

لیونید سلٹسکی کے مطابق اگر وائٹ ہاؤس نے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کا فیصلہ کیا تو یہ نہ صرف خام تیل اور دیگر عالمی منڈیوں کو عدم استحکام سے دوچار کرے گا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو بحران میں دھکیل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ تیل کے حصول کی خواہش میں امریکہ اس حد تک جا سکتا ہے کہ خام مال کی منڈیوں کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے امن کو بھی تباہ کر دے، جس کے خطرات سے خلیج فارس کے ممالک کے رہنما پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کر چکے ہیں۔

Advertisement

روسی قانون ساز نے ایران میں جاری احتجاج کو ایک منظم ’کلر ریولوشن‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ مظاہرے بیرونی قوتوں کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کرائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی سیاست دان عملاً اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں، کیونکہ وہ کھلے عام مظاہرین کو سڑکوں پر تشدد جاری رکھنے اور منتخب حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔

لیونید سلٹسکی نے اس بات پر زور دیا کہ روسی پارلیمان ایران کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کی سخت مخالفت کرتی ہے اور اس سلسلے میں روسی اور ایرانی پارلیمان کے درمیان مسلسل رابطہ قائم ہے۔

ایران میں بدامنی کا آغاز 29 دسمبر کو ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی کے بعد ہونے والے احتجاج سے ہوا، جو بعد ازاں ملک کے بیشتر بڑے شہروں تک پھیل گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان مظاہروں کے دوران 40 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ 8 جنوری کو مظاہرین کے درمیان مسلح دہشت گرد بھی شامل ہو گئے تھے، جبکہ ایران نے ان واقعات کا ذمہ دار اسرائیل اور امریکہ کو ٹھہرایا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ بیان دے چکے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔