ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
سی بی سی ٹیلی ویژن نے ابتدائی نتائج کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کو ہونے والے ریفرنڈم میں البرٹا کے 76 فیصد سے زائد ووٹروں نے کینیڈا کا صوبہ برقرار رہنے کے حق میں رائے دی۔ ابتدائی نتائج کے مطابق 76.4 فیصد ووٹروں نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کی، جبکہ 23.6 فیصد نے آزادی کی جانب عمل شروع کرنے کی حمایت کی۔ اس وقت تک تقریباً 10 لاکھ ووٹروں کے بیلٹ پیپرز میں سے ایک چوتھائی گنے جا چکے تھے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ریفرنڈم پر ردعمل میں کہا کہ البرٹا کے عوام نے واضح انتخاب کیا ہے۔ ان کے الفاظ میں انہوں نے اتحاد، مل کر تعمیر اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کو چنا، اور سب سے بڑھ کر البرٹا والوں نے کینیڈا کو چنا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سوالات پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے، مگر علیحدگی کے فیصلہ کن سوال پر آج رات کے نتائج کا مطلب ہے کہ البرٹا کے عوام اور تمام کینیڈین نئے عزم اور بلند عزائم کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے۔
وزیراعظم کے مطابق کینیڈا دنیا بھر میں نئی تجارتی شراکت داریاں قائم کر رہا ہے، ملک کے ہر حصے میں قومی تعمیر کے بڑے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے، اور البرٹا کو مرکز میں رکھتے ہوئے عالمی توانائی کی سپر پاور کے طور پر اپنی پوری صلاحیت بروئے کار لا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ صوبے کا علیحدگی پر پہلا ریفرنڈم تھا، جو غیر پابند تھا، اور اس نتیجے سے وزیراعظم کارنی کو ایسے وقت میں اہم کامیابی ملی ہے جب وہ امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ کے دوران ملک کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ریفرنڈم آزادی پر براہ راست ووٹ نہیں تھا، بلکہ منظوری کی صورت میں صوبہ علیحدگی پر مستقبل کے ووٹ کی راہ پر چل پڑتا۔ بعد ازاں 15 لاکھ سے زائد ووٹوں کی گنتی تک بھی 76 فیصد نے کینیڈا کا حصہ رہنے کی حمایت کی۔
البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ وہ کینیڈا کا حصہ رہنے کے لیے وسیع حمایت دیکھ کر بہت خوش ہیں۔ انہوں نے مئی میں وعدہ کیا تھا کہ اگر پہلا آپشن جیتا تو وہ آزادی پر دوسرا ریفرنڈم نہیں کرائیں گی۔ وہ منگل کی شام صوبے سے خطاب کرنے والی تھیں، جبکہ دو نمایاں علیحدگی پسندوں نے حتمی نتائج کا انتظار کرنے کا کہا۔ رائٹرز کے مطابق علیحدگی کی تحریک کے آگے بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔