روسی صدر نے یوکرین – یورپی یونین تعلقات کو کتے سے تشبیہ دے دی

Putin Putin

روسی صدر نے یوکرین – یورپی یونین تعلقات کو کتے سے تشبیہ دے دی

ماسکو (صداۓ روس)
روس کے صدر صدر پوتن نے یورپی یونین اور یوکرین کے تعلقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال ایسی ہے جیسے “دم کتے کو ہلا رہی ہو”، یعنی یوکرین کے جارحانہ طرز عمل کے باوجود برسلز مسلسل اس کی حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو روسی نشریاتی ادارے ویستی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
صدر پوتن نے کہا کہ یوکرینی حکام دروژبا پائپ لائن کے ذریعے روسی تیل کی ہنگری اور سلوواکیا تک ترسیل روک رہے ہیں۔ یہ پائپ لائن یوکرین کے علاقے سے گزرتی ہے۔ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ یہ پائپ لائن روسی حملوں سے متاثر ہوئی ہے، تاہم ماسکو اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ ہنگری اور سلوواکیا اس معاملے پر متعدد بار کیئیف پر بلیک میلنگ کا الزام لگا چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ برسلز نے یورپی یونین کے دو رکن ممالک کی حمایت کرنے کے بجائے یوکرین کا ساتھ دیا ہے۔ صدر پوتن نے کہا کہ صورتحال بہت عجیب ہے اور انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اصل طاقت کا توازن الٹ گیا ہو۔ ان کے مطابق یوکرین کی حکومت کا مؤقف خطرناک اور جارحانہ ہے، اس کے باوجود یورپی یونین اسے مسلسل ہتھیاروں اور مالی امداد کی صورت میں بھرپور حمایت فراہم کر رہی ہے۔

توانائی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ تیل کی ترسیل روکنے سے یورپی یونین کے رکن ممالک کی توانائی سلامتی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جیسا کہ نارڈ اسٹریم پائپ لائنز کی تباہی کے بعد ہوا تھا۔ ان کے مطابق اس کے باوجود یورپی یونین یوکرین کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور اس طرح کیئیف حکومت کو مزید حوصلہ دے رہی ہے۔ صدر پوتن نے یوکرین کے بحران کا ذمہ دار مغربی ممالک کو قرار دیتے ہوئے اسے ایک “نظامی غلطی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تنازع مغربی حمایت سے کیئیف میں بغاوت کے بعد شروع ہوا، جس کے بعد کریمیا روس کے ساتھ دوبارہ شامل ہوا اور جنوب مشرقی یوکرین کے علاقوں ڈونباس اور نووروسیا میں بدامنی پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ روس کے اقدامات نہیں تھے بلکہ یورپی ممالک اب اپنی ہی پالیسیوں کے نتائج بھگت رہے ہیں۔