گرین لینڈ کا فیصلہ: ڈنمارک کے ساتھ رہیں گے، ٹرمپ کی قبضے کی دھمکی مسترد

Jens-Frederik Nielsen Jens-Frederik Nielsen

گرین لینڈ کا فیصلہ: ڈنمارک کے ساتھ رہیں گے، ٹرمپ کی قبضے کی دھمکی مسترد

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
گرین لینڈ کے وزیراعظم ینس فریڈرک نیلسن نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ خودمختار ڈینش علاقہ گرین لینڈ امریکا میں شامل ہونے کے بجائے ڈنمارک کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لینے کے مسلسل بیانات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ کوپن ہیگن میں ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گرین لینڈ کے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حالات میں گرین لینڈ کو ایک سنگین جغرافیائی و سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر ہمیں اس وقت امریکا اور ڈنمارک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو ہم ڈنمارک کو منتخب کریں گے۔” ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے اس موقع پر کہا کہ اپنے قریبی اتحادی کی جانب سے اس نوعیت کے دباؤ کا سامنا کرنا آسان نہیں تھا، جسے انہوں نے “بالکل ناقابلِ قبول دباؤ” قرار دیا۔ گرین لینڈ کے وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل گرین لینڈ کی حکومت نے امریکی صدر کی جانب سے جزیرے پر قبضے کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا تھا۔

گرین لینڈ کی مخلوط حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا ایک بار پھر گرین لینڈ کو اپنے زیرِ انتظام لینے کی خواہش کا اظہار کر رہا ہے، جسے گرین لینڈ کی موجودہ حکومت کسی بھی صورت قبول نہیں کر سکتی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ڈینش دولتِ مشترکہ کا حصہ ہونے کے ناطے گرین لینڈ نیٹو کا رکن ہے اور اس کا دفاع نیٹو کے دائرہ کار میں ہی ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ گرین لینڈ کو “کسی نہ کسی طریقے سے” امریکی کنٹرول میں لایا جائے گا۔ ان بیانات نے نیٹو کے اندر بھی ایک بحران کو جنم دیا ہے، جبکہ یورپی اتحادیوں نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کا امریکی قبضہ امریکا اور یورپ کے تعلقات پر سنگین اثرات مرتب کرے گا۔

Advertisement