مغرب اسلحہ کی دوڑ میں روس سے شکست کھا رہا ہے. لاروف کا دعویٰ
ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ مغرب اسلحے کی دوڑ میں روس سے بری طرح ہار رہا ہے، اسی لیے اب وہ روسی فوجی سازوسامان پر پابندیاں لگا کر غیر منصفانہ اور غیر قانونی مقابلہ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات روسی ٹی وی پروگرام ”میلٹری ایکسپٹنس“ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہی۔
لاروف نے کہا کہ یوکرین تنازع کو بہانہ بنا کر مغرب روس کو ”سزا“ دینے“ کی کوشش کر رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ”گندی اور غیر مقابلاتی لڑائی“ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغرب نے دہائیوں تک جن اصولوں کی تبلیغ کی تھی یعنی آزاد منڈی، معصومیت کا اصول اور منصفانہ تجارت، وہ سب اسی لمحے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے گئے جب مغرب کو احساس ہوا کہ وہ مقابلہ ہار رہا ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ روسی ہتھیار دنیا بھر کے ان ممالک کے لیے قابلِ اعتماد انتخاب بن چکے ہیں جو اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا چاہتے ہیں اور بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کلاشنکوف رائفل نوآبادیاتی غلامی سے آزادی کی علامت بن چکی ہے اور افریقی ممالک آج بھی اپنے دادا اور والد کی اس جدوجہد کو یاد کرتے ہیں جس میں سوویت ہتھیاروں اور روسی مشیروں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
لاروف نے کہا کہ آج بھی جدید ترین ٹیکنالوجی کے دور میں روس اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہے بلکہ آگے ہے۔ عالمی جنوب کے بیشتر ممالک مغربی دباؤ کے باوجود روس کے ساتھ منصفانہ تجارت کرنا چاہتے ہیں اور متبادل مالیاتی، بینکنگ اور لاجسٹک راستے تلاش کر رہے ہیں، جو کامیابی سے کام بھی کر رہے ہیں۔
انہوں نے جنوبی افریقہ اور برازیل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں کی عوام اور اشرافیہ کھل کر روس کی حمایت کرتی ہے اور سینٹ جارج ربن اور حرف ”Z“ کو فخر سے دکھاتی ہے۔