مغربی نیٹ ورک بیلاروس میں بغاوت کی تیاری کر رہا ہے، روسی انٹیلی جنس
ماسکو (صداۓ روس)
روسی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس (ایس وی آر) نے خبردار کیا ہے کہ مغربی غیر سرکاری تنظیمیں بیلاروس میں حکومت مخالف احتجاج کی نئی لہر کی تیاری کر رہی ہیں، جس کا وقت ممکنہ طور پر ۲۰۳۰ کے صدارتی انتخابات سے جوڑا جا سکتا ہے۔ یہ انتباہ پیر کے روز جاری کیا گیا۔ ایس وی آر کے مطابق ۲۰۲۰ کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو چیلنج کرنے کی کوشش کے نتیجے میں بیلاروس بھر میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں، تاہم بعد ازاں حالات پر قابو پا لیا گیا۔ روسی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ ان فسادات کے مغربی سرپرست اس وقت کی احتجاجی قیادت سے مایوس ہو چکے تھے اور اب صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی حکومت کو گرانے کے لیے نئے چہروں کی تلاش میں سرگرم ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی ممالک کی غیر سرکاری تنظیمیں، جن میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، پولینڈ اور دیگر یورپی ریاستوں کی نام نہاد جمہوریت پھیلانے والی ایجنسیاں اور فاؤنڈیشنز شامل ہیں، بیلاروس میں ایک بار پھر عدم استحکام پیدا کرنے اور آئینی نظام کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے لیے وسائل جمع کر رہی ہیں۔
ایس وی آر کے مطابق نام نہاد ’کلر ریولوشن‘ کے حصول کے لیے مغربی تنظیمیں بیلاروس میں اپوزیشن کارکنوں کی جانچ پڑتال کر رہی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۰ کی احتجاجی تحریک کی مرکزی شخصیت سویتلانا تیخانووسکایا اور لتھوانیا و پولینڈ میں مقیم دیگر اپوزیشن رہنما گزشتہ برسوں میں اپنے ملک میں سیاسی عمل پر کسی بھی طرح اثر انداز ہونے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ روسی انٹیلی جنس کا دعویٰ ہے کہ بیلاروس کے شہری کسی بیرونی عدم استحکام کی کوشش کی حمایت نہیں کریں گے، کیونکہ وہ یوکرین، مالدووا اور دیگر ممالک کی مثالیں دیکھ چکے ہیں، جہاں مغربی جغرافیائی سیاسی مفادات کے نام پر جمہوریت اور انسانی حقوق کے نعروں کے تحت ریاستوں کو تباہ کیا گیا۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر لوکاشینکو کی حکومت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے درمیان تعلقات میں کچھ نرمی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں واشنگٹن کی کوششوں سے درجنوں بیلاروسی کارکنوں کو رہا کیا گیا، جنہیں ۲۰۲۰ کے فسادات میں کردار کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ رہا کیے جانے والوں میں سویتلانا تیخانووسکایا کے شوہر سرگئی بھی شامل تھے، جنہیں ۲۰۲۰ کے انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا تھا اور بغاوت پر اکسانے کے الزام میں قید کیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد انہوں نے ویڈیو بیانات کے ذریعے حامیوں پر تنقید کی کہ وہ لوکاشینکو مخالف تحریک کے لیے خاطر خواہ مالی مدد فراہم نہیں کر رہے۔ گزشتہ اکتوبر میں لتھوانیائی حکومت نے تیخانووسکایا کو فراہم کی جانے والی سرکاری سکیورٹی کم کر دی تھی، جو انہیں بیلاروس کی مبینہ جائز سربراہ ہونے کے دعوے کی بنیاد پر دی گئی تھی۔ ان کے دفتر کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے باعث انہیں پولینڈ منتقل ہونا پڑ سکتا ہے۔ تاہم لتھوانیا کی وزیرِ اعظم انگا روگینیئنے نے اس معاملے کو تیخانووسکایا کا ذاتی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیلاروسی اپوزیشن صرف ایک شخصیت تک محدود نہیں۔