امریکی ٹیکنالوجی ایرانی “شیڈو پینٹ” کا شکار، جعلی طیاروں پر میزائل ضائع
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کی ایک مبینہ عسکری حکمتِ عملی سوشل میڈیا اور دفاعی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئی ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ ایران نے امریکی نگرانی اور ہدفی نظام کو دھوکا دینے کے لیے زمین پر جعلی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی تصاویر پینٹ کر دیں۔ بعد ازاں امریکہ کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں دیکھا گیا کہ میزائل اور بم انہی پینٹ شدہ اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس اور آن لائن گردش کرنے والی معلومات کے مطابق یہ پینٹ شدہ طیارے دراصل ایک حربی چال کے طور پر استعمال کیے گئے تھے تاکہ امریکی انٹیلی جنس اور حملہ آور نظام کو غلط سمت میں لے جایا جا سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکی میزائل جن کی قیمت تقریباً ایک کروڑ ڈالر فی میزائل بتائی جاتی ہے، ان جعلی اہداف پر داغ دیے گئے۔دوسری جانب رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے حقیقی لڑاکا طیاروں اور فوجی سازوسامان کو خفیہ طور پر زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا تھا۔ یوں مہنگی امریکی ٹیکنالوجی کو ایسے اہداف پر استعمال کیا گیا جن کی تیاری پر ایران کو تقریباً کوئی لاگت نہیں آئی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگی حکمتِ عملی میں دھوکہ دہی اور فریب کاری صدیوں سے استعمال ہوتی آ رہی ہے، تاہم جدید دور میں جب سیٹلائٹ نگرانی، ڈرون اور مصنوعی ذہانت جیسے نظام استعمال ہو رہے ہوں تو اس نوعیت کی سادہ مگر مؤثر حکمتِ عملی بعض اوقات مہنگی ترین فوجی ٹیکنالوجی کو بھی ناکام بنا سکتی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ اسے جدید جنگ میں اسٹریٹیجک فریب کی ایک نمایاں مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں کم لاگت کے حربوں کے ذریعے حریف کی مہنگی عسکری صلاحیتوں کو ضائع کیا جا سکتا ہے۔