کیا روس یوکرین کے صدر کو اغوا کرے گا جیسا کہ امریکہ نے وینزویلا میں کیا؟

Putin Putin

کیا روس یوکرین کے صدر کو اغوا کرے گا جیسا کہ امریکہ نے وینزویلا میں کیا؟

ماسکو (صداۓ روس)
دنیا بھر میں امریکہ کی وینزویلا میں صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور اغوا کی مبینہ کارروائی نے تشویش پیدا کر دی ہے، اور بعض حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا روس مستقبل میں یوکرین کے صدر کے ساتھ بھی اسی حکمتِ عملی کو اپنائے گا۔ جو جواب سب سے پہلے سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ روسی سرکاری پالیسی اور بین الاقوامی ردِعمل دونوں کے بنیادی تناظر کے مطابق روس اپنے پڑوسی ملک کے صدر کو اغوا کرنے جیسی کارروائی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ روس نے وینزویلا کے معاملے پر امریکہ کے اقدام کو بارہا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اپنے مؤقف میں خودمختار ریاستوں کی خود ارادیت کا احترام کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کی کارروائی کو “فوجی جارحیت” اور خودمختاری کے خلاف سمجھا ہے، اور اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسی وجہ سے روسی میڈیا یا مبصرین کی جانب سے بھی اس طرح کے متوقع عمل پر بحث موجود ہے، اور بعض سابق روسی اہلکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس بین الاقوامی قانون کی پابندی کرتا ہے اور اسی لیے وہ ایسی کارروائیوں کا حصہ نہیں بنے گا۔ ایک سابق روسی خصوصی اہلکار نے بتایا کہ “روسی حکام قانون کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے ایسے اقدامات نہیں کرتے”۔

لہٰذا سوال کا جواب ‘نہیں’ ہے: روسی سرکاری موقف اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے پیشِ نظر روس ایسی کارروائی کو اختیار نہیں کرے گا جس میں کسی غیر ملکی صدر کو اغوا یا اپنے ارادے سے ہٹ کر گرفتار کیا جائے۔ روس اپنے عمل کو قانونی، سفارتی اور فوجی نکات کے تحت برتا ہے، نہ کہ چھپے ہوئے آپریشنز یا غیر قانونی اغوا کی بنیاد پر۔

Advertisement