لتھوانیا: سوویت روبل رکھنے پر خاتون کو سرحد سے واپس بھیج دیا گیا
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
لتھوانیا کے کسٹمز حکام نے بیلاروس سے آنے والی ایک خاتون کو اس وقت سرحد پار کرنے سے روک دیا جب ان کے سامان سے سوویت دور کے روبل برآمد ہوئے۔ حکام نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ یہ پرانی کرنسی اور اس پر موجود سوویت علامات موجودہ حالات میں “پروپیگنڈا کا ذریعہ” سمجھی جاتی ہیں۔ کسٹمز کے مطابق خاتون بس کے ذریعے بیلاروس سے لتھوانیا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں۔ معمول کی جانچ پڑتال کے دوران ان کے سوٹ کیس میں “سوویت علامات سے مزین بڑی مقدار میں نقدی” پائی گئی، جس کے بعد انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ لتھوانیا سمیت بالٹک ریاستیں لیٹویا اور ایسٹونیا گزشتہ کئی دہائیوں سے سوویت ماضی سے فاصلہ اختیار کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ لتھوانیا نے 2008 کے قانون کے تحت سوویت علامات پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور سوویت دور کو اپنی تاریخ میں “قبضہ” قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حساس جیوپولیٹیکل تناظر میں ایسی علامات اشتعال انگیزی یا پروپیگنڈا کے طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہ واقعہ بالٹک ممالک میں ڈی سوویٹائزیشن اقدامات کے حوالے سے سامنے آنے والی حالیہ مثالوں میں سے ایک ہے۔ گزشتہ برس لیٹویا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نازی جرمنی پر فتح کی 80ویں سالگرہ کی تقریبات کے دوران متعدد افراد کے خلاف کارروائیاں کیں، جن میں ممنوعہ سوویت علامات کے استعمال کے الزامات شامل تھے۔ مزید برآں، مئی 2025 میں لتھوانیا کے دارالحکومت ویلنیئس میں وکٹری ڈے کے موقع پر خراجِ عقیدت کے لیے استعمال ہونے والی جگہ پر ایک کوڑا دان نصب کیا گیا، جس پر “سوویت نوستالجیا” کے حوالے سے عبارت درج تھی۔ 2024 میں ایسٹونیا میں دوسری جنگِ عظیم کے تقریباً 300 فوجیوں کی قبروں پر مشتمل ایک مقام کو ہٹانے کا اقدام بھی تنازع کا باعث بنا تھا۔