نیوسٹارٹ معاہدے کی میعاد ختم ہوتے ہی دنیا مزید خطرناک ہو جائے گی، کریملن
ماسکو (صداۓ روس)
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے خبردار کیا ہے کہ روس اور امریکا کے درمیان جوہری ہتھیاروں میں کمی کے اہم معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے ساتھ ہی دنیا ایک زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔ پیسکوف کے مطابق نیوسٹارٹ معاہدہ، جو دنیا کے دو سب سے بڑے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر پر حد مقرر کرتا ہے، پانچ فروری کو باضابطہ طور پر ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے منگل کو پریس بریفنگ کے دوران اس معاہدے کو مزید ایک سال کے لیے بڑھانے کی روسی پیشکش کو ایک بار پھر دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف چند دنوں میں دنیا اس صورتحال کے مقابلے میں زیادہ خطرناک حالت میں چلی جائے گی جو اب تک موجود رہی ہے۔ پییسکوف نے مزید کہا کہ اگر امریکا اس معاہدے میں توسیع سے انکار کرتا ہے تو یہ عالمی سلامتی اور اسٹریٹجک سیکیورٹی کے لیے انتہائی منفی ہوگا۔ نیوسٹارٹ معاہدہ دو ہزار گیارہ میں سرد جنگ کے دور میں جوہری خطرات کم کرنے کی کوششوں کے تسلسل کے طور پر طے پایا تھا اور آخری بار دو ہزار اکیس میں اس میں توسیع کی گئی تھی۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے جوہری ہتھیاروں اور ان کی ترسیل کے نظاموں کی تعداد اور تعیناتی پر حد مقرر کرتا ہے۔
یوکرین تنازع کے شدت اختیار کرنے کے بعد روس نے معاہدے کے تحت تصدیقی نظام کو معطل کر دیا تھا، اس مؤقف کے ساتھ کہ یوکرینی حملوں میں روسی جوہری دفاعی نظام کے بعض عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔ صدر پوتن نے نیٹو کی جانب سے معائنے دوبارہ شروع کرنے کے مطالبے کو ’’بے معنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ روس جانتا ہے کہ مغرب کیف حکومت کی جانب سے روسی اسٹریٹجک طیاروں کے اڈوں پر حملوں میں براہ راست ملوث ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ نیوسٹارٹ کی جگہ ایک نیا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں چین کو بھی شامل کیا جائے۔ گزشتہ ماہ نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر معاہدہ ختم ہو جاتا ہے تو ہو جائے، ہم اس سے بہتر معاہدہ کریں گے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ کسی بھی نئے حساب کتاب میں نیٹو کے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک فرانس اور برطانیہ کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔