زیلنسکی کا علاقہ چھوڑنے سے انکار، امریکا سے بھی سمجھوتوں کا مطالبہ

Vladimir Zelensky Vladimir Zelensky

زیلنسکی کا علاقہ چھوڑنے سے انکار، امریکا سے بھی سمجھوتوں کا مطالبہ

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات بدستور متعدد پیچیدہ اور حساس معاملات کے گرد گھوم رہے ہیں، جبکہ کیف کسی بھی صورت اپنے علاقائی دعووں سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے 25 جنوری کو اس مؤقف کا اعادہ کیا۔ آر بی سی یوکرین کے مطابق زیلنسکی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر کہا کہ مذاکرات میں کئی مشکل نکات موجود ہیں، تاہم ان کی تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاقائی مسئلے پر یوکرین کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور اس معاملے پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ زیلنسکی کے مطابق اگر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ہے تو تمام فریقین، بشمول امریکا، کو سمجھوتے کرنا ہوں گے۔ اس سے ایک روز قبل، 24 جنوری کو، یوکرینی صدر نے کہا تھا کہ ابو ظہبی میں امریکا، روس اور یوکرین کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں متعدد امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور انہوں نے ان مذاکرات کو تعمیری قرار دیا۔

اسی روز ایکسیوس کے صحافی باراک راوڈ نے یوکرینی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ابو ظہبی میں یوکرین سے متعلق مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے کے اوائل میں ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کے سفیر برائے خصوصی امور رودین میروشینک نے کہا کہ کیف زبانی طور پر امن تصفیے کی بات کرتا ہے، مگر ابو ظہبی میں سہ فریقی مذاکرات کے دوران یوکرینی فوج نے طبی عملے کو لے جانے والی گاڑی پر ڈرون حملہ کیا۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات کیف حکومت کی جانب سے کیے جانے والے جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

Advertisement