زیلنسکی کا گرین لینڈ فوج بھیجنے سے انکار
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین گرین لینڈ میں اپنی افواج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، کیونکہ اس وقت یوکرینی مسلح افواج کو شدید افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے یہ بات 20 جنوری کو ایک بیان میں کہی۔ یوکرینی میڈیا کے مطابق زیلنسکی نے کہا کہ اس وقت یوکرین کی تمام افواج محاذِ جنگ پر تعینات ہیں اور فوجی دستوں کی کمی ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں کسی نئے محاذ پر فوج بھیجنا ممکن نہیں۔ صدر زیلنسکی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈنمارک کی حکومت نے یوکرین سے گرین لینڈ میں فوج بھیجنے کی کوئی درخواست نہیں کی۔ ان کے مطابق اس حوالے سے قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔
واضح رہے کہ 20 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد اعلان کیا تھا کہ گرین لینڈ سے متعلق ایک اجلاس سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقد کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اس موقع پر گرین لینڈ کو امریکی اور عالمی سلامتی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ اسی روز امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ڈنمارک گرین لینڈ کے دفاع کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور یہاں تک کہا کہ بعض ڈنمارکی حکام اس جزیرے کا دورہ تک نہیں کرتے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ امریکا کو گرین لینڈ کا کنٹرول سنبھال لینا چاہیے۔