ہومانٹرنیشنلترکی میں اویغور باشندوں کا چینی صدر کے خلاف احتجاج

ترکی میں اویغور باشندوں کا چینی صدر کے خلاف احتجاج

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک)
ترکی میں اویغور باشندوں کا چینی صدر کے خلاف احتجاج ہوا ہے. اطلاعات کے مطابق ترکی میں اویغوروں کے ایک گروپ نے چین کے صدر شی جن پنگ اور سکیورٹی حکام کے خلاف چین کے علاقے سنکیانگ ایغور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مجرمانہ شکایت درج کرائی ہے۔

ترکی میں 19 اویغوروں کے گروپ نے کو چین کے صدر شی جن پنگ اور سکیورٹی حکام کے خلاف چین کے علاقے سنکیانگ ایغور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک شکایت ترک قانونی حکام کو پیش کی۔

این ایچ کے ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق یہ شکایت چینی صدر اور سکیورٹی حکام سمیت 112 افراد کے خلاف کی گئی ہے۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ چین سنکیانگ کے علاقے میں 116 اویغوروں کو حراستی کیمپوں میں قید کر رہا ہے اور ان کی نسل کشی میں ملوث ہے۔ذرائع کے مطابق شکایت درج کیے جانے کے بعد ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں ایک عدالت کے سامنے تقریباً 150 اویغوروں نے چینی حکومت کے خلاف ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین میں ایک مدین ناظمی نے کہا کہ اس کی بہن ایک حراستی کیمپ میں ہے۔

وہ اور اس کی بہن دونوں ترک شہری ہیں۔ ناظمی نے کہا کہ ان کی بہن بے قصور ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ ترک حکومت ان کی بہن بھائی کو بازیاب کرائے۔ ایغور نسلی طور پر ترک عوام کے قریب ہیں، ان میں سے تقریباً 50,000 ترکی میں رہتے ہیں۔دریں اثنا، ترکی میں اویغور اگلے ماہ شروع ہونے والے بیجنگ سرمائی اولمپکس کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔ شکایت کا مقصد بیجنگ اولمپکس سے قبل سنکیانگ کے علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر بیداری پیدا کرنا ہے۔

Facebook Comments Box
انٹرنیشنل