صدر پوتن اور صدر شی جن پنگ کے درمیان نئے سال کی مبارکبادوں کا تبادلہ
ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ نے نئے سال کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد دی ہے اور روس و چین کے درمیان مستحکم اور مسلسل ترقی کرتے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ روس اور چین نے فروری 2022 میں یوکرین تنازع کے شدت اختیار کرنے کے بعد باہمی تعاون میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو ایک ایسی اسٹریٹجک شراکت داری قرار دیتے ہیں جو “بغیر کسی حد کے” قائم ہے۔ اس تعاون کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2020 سے 2024 کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً دوگنا ہو گئی اور گزشتہ برس یہ حجم 240 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے پیغام میں صدر شی جن پنگ اور چینی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2025 کے دوران چین اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مسلسل فروغ پاتی رہی اور دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی۔
چینی صدر شی جن پنگ نے منگل کے روز صدر پوتن اور روسی عوام کو جوابی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات نے مزید پیش رفت کی ہے اور اس بات کی نشاندہی کی کہ سال کے دوران دونوں رہنماؤں کی بیجنگ اور ماسکو میں دو مرتبہ ملاقاتیں ہوئیں۔ صدر شی جن پنگ نے مزید کہا کہ روس اور چین نے اقوام متحدہ سمیت مختلف کثیرالجہتی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھی، جس سے عالمی امور میں دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو تقویت ملی۔