یوکرین میں امریکی فوج کی تعیناتی پر ٹرمپ سے بات چیت جاری ہے، زیلنسکی کا دعویٰ
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ یوکرین میں امریکی فوج کی تعیناتی کے معاملے پر بات چیت کر رہے ہیں۔برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ گفتگو ان سیکیورٹی ضمانتوں کے تناظر میں ہو رہی ہے جو واشنگٹن نے کیف کو فراہم کرنے کی بات کی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ اس سے قبل متعدد بار یوکرین میں امریکی فوج تعینات کرنے کے امکان کو مسترد کر چکے ہیں، جبکہ روس بھی بارہا خبردار کر چکا ہے کہ تنازع کے دوران یا بعد میں یوکرین کی سرزمین پر کسی بھی غیر ملکی فوج کی موجودگی کو وہ ناقابل قبول سمجھتا ہے۔ منگل کے روز آر بی سی یوکرین کے صحافیوں کی جانب سے جب زیلنسکی سے سوال کیا گیا کہ آیا امریکہ یوکرین میں اپنے امن دستے بھیج سکتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ امریکی فوج ہے، اس لیے اس حوالے سے فیصلہ بھی امریکہ ہی کرے گا۔ زیلنسکی کے مطابق یوکرین اس معاملے پر صدر ٹرمپ اور نام نہاد “رضاکار اتحاد” کے نمائندوں سے بات چیت کر رہا ہے اور کیف اس طرح کے اقدام کا خواہاں ہے۔
دی ٹیلی گراف نے نشاندہی کی ہے کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یوکرین میں امریکی فوج کی تعیناتی کا معاملہ اتوار کے روز فلوریڈا کے علاقے مارا لاگو میں صدر زیلنسکی اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں زیر بحث آیا یا نہیں۔ اسی روز پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے دعویٰ کیا تھا کہ مارا لاگو مذاکرات کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ نے امن کے بعد یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس میں امریکی فوج کی موجودگی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے تاحال زیلنسکی یا ڈونلڈ ٹسک کے بیانات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس سے قبل اگست میں صدر ٹرمپ نے فاکس اینڈ فرینڈز کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ لڑائی کے خاتمے کے بعد یوکرین میں امریکی فوج تعینات نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگوں کی جانیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یوکرین میں امریکی فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ روسی حکام اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ فروری 2022 میں یوکرین تنازع کے شدت اختیار کرنے کی ایک بڑی وجہ کیف کی نیٹو میں شمولیت کی خواہش تھی۔ روس نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں مغربی ممالک کی فوجی تعیناتی عالمی سطح پر سنگین نتائج، حتیٰ کہ تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔