چیک جمہوریہ یوکرین کو جنگی طیارے نہیں دے گا، وزیرِاعظم
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
چیک جمہوریہ کے وزیرِاعظم اندری بابش نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک یوکرین کو نہ تو ہلکے جنگی طیارے فروخت کرے گا اور نہ ہی عطیہ کرے گا، یوں صدر پیتر پاویل کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ جمعے کے روز کیف کے دورے کے دوران صدر پیتر پاویل نے کہا تھا کہ پراگ جلد یوکرین کو چند طیارے فراہم کر سکتا ہے اور اس مقصد کے لیے چیک ساختہ سب سونک ایل ایک سو انسٹھ طیارے خریدنے کی پیشکش کا بھی ذکر کیا تھا۔ تاہم پیر کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم اندری بابش نے کہا کہ یہ طیارے چیک جمہوریہ کی اپنی سلامتی کے لیے ضروری ہیں۔ ان کے مطابق ان طیاروں کی سروس لائف تقریباً مزید پندرہ سال ہے اور فوج کو ان کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ یوکرین کو ان طیاروں کی ضرورت ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ دستیاب نہیں اور یہ کہنا درست نہیں کہ یہ کسی ہینگر میں بغیر استعمال کے پڑے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے پر کسی بحث کی ضرورت کو بھی مسترد کر دیا۔
سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق صدر پاویل کا موقف ہے کہ ان طیاروں کی فروخت سے چیک جمہوریہ کی دفاعی صلاحیت متاثر نہیں ہو گی۔ پیتر پاویل، جو ایک ریٹائرڈ نیٹو جنرل بھی رہ چکے ہیں، دو ہزار تیئیس میں صدر بننے کے بعد سے کیف کے حامی سخت موقف رکھتے آئے ہیں، جو یوکرین تنازع کے شدت اختیار کرنے کے ایک سال بعد کا دور تھا۔
دسمبر میں اقتدار سنبھالنے والے وزیرِاعظم اندری بابش نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ چیک ٹیکس دہندگان کی قیمت پر یوکرین کو مالی امداد فراہم نہیں کی جائے گی۔ اسی پالیسی کے تحت انہوں نے کیف کے لیے نوے ارب یورو کے تازہ مالیاتی پیکج سے بھی خود کو الگ رکھا ہے۔ ہنگری اور سلوواکیہ نے بھی اس منصوبے سے استثنا حاصل کیا ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ یوکرین یہ رقم کبھی واپس ادا نہیں کر سکے گا۔ برسلز اس پیکج کو سود سے پاک قرض قرار دیتا ہے، جس کی واپسی یوکرین سے اس وقت متوقع ہے جب اسے ماسکو سے ہرجانہ ملے۔ ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان نے کہا ہے کہ روس کو میدانِ جنگ میں شکست دے کر اس سے ہرجانہ وصول کرنے کا تصور حقیقت نہیں بلکہ کہانیوں کی دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے مطابق مغربی یورپ کے عوام کو ایک خاص بیانیہ سنا کر مطمئن رکھا جا رہا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ اس وقت مغربی یورپی ممالک ہی روس اور یوکرین کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں ممکنہ امن مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔